تازہ ترین
تازہ ترین

معرکہ حق میں کامیابی کے بعد پاکستان کو معاشی خودمختاری کی جنگ جیتنا ہوگی، احسن اقبال کاسافا سمٹ سے خطاب

📅 Saturday، 09 May 2026 ✍️ Muhammad Khalid ⏱ 7 منٹ مطالعہ 💬 کوئی تبصرہ نہیں
ahsan iqbal
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Approved ✅ Easy Installments ✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing
f 𝕏 in شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

لاہور۔9مئی (دوست نیوز):وفاقی وزیر منصوبہ بندی،ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ معرکہ حق میں کامیابی کے بعد اب پاکستان کو معاشی خود مختاری کی جنگ جیتنے کے لیے قومی اتحاد،سیاسی استحکام، پالیسیوں کے تسلسل اور برآمدات میں غیر معمولی اضافے کی ضرورت ہے،ملک کی اصل طاقت مضبوط معیشت، پیداواری صلاحیت اور عالمی منڈیوں میں موثر موجودگی سے وابستہ ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز یہاں مقامی ہوٹل میں سافا سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سمٹ میں صدر سافا ہمایوں کبیر،صدر آئی سی ایم اے عظیم حسین صدیقی،نائب صدر آئی سی ایم اے و چیئرمین آرگنائزنگ کمیٹی سافا انٹرنیشنل سمٹ محمد یاسین سمیت بنگلہ دیش،سری لنکا،نیپال اور دیگر رکن ممالک سے تعلق رکھنے والے ممتاز ماہرینِ مالیات،پالیسی سازوں، ریگولیٹرز، کارپوریٹ رہنماوں نے شرکت کی۔

وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان وسائل سے مالا مال ملک ہے لیکن اصل مسئلہ پالیسیوں کا عدم تسلسل رہا ہے۔ سن2013 سے2018 کے دوران ملک کو پاکستان 2025 وژن کے تحت ترقی کی راہ پر گامزن کیا گیا،لوڈشیڈنگ میں نمایاں کمی آئی،دہشت گردی پر قابو پایا گیا اور معاشی شرح نمو میں اضافہ ہوا تاہم بعد ازاں آنے والے سیاسی حالات نے ترقی کا سفر متاثر کیا۔انہوں نے کہا کہ معیشت اعتماد سے چلتی ہے اور جب پالیسیاں بار بار تبدیل ہوں،اداروں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے اور افسران خوف کا شکار ہوں تو سرمایہ کاری رک جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج مالیاتی خسارہ اور برآمدات میں کمی ہے،قرضوں کے چکر سے نکلنے کے لیے ملک کو پیداواری صلاحیت بڑھانا ہوگی۔انہوں نے زور دیا کہ دنیا میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو برآمدات میں اضافہ، درآمدی متبادل صنعتوں کے فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر توجہ دیتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اب برآمدات پر مبنی معیشت کی طرف بڑھ رہا ہے اور اسی مقصد کے لیے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل قائم کی گئی ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو ایک ہی چھت تلے سہولیات فراہم کی جا سکیں اور سرخ فیتے کا خاتمہ ہو۔انہوں نے کہا کہ زراعت،اطلاعاتی ٹیکنالوجی، معدنیات، ہینڈی کرافٹس، لائیو اسٹاک اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کے شعبوں میں پاکستان کے پاس بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ہر ضلع میں برآمدی صلاحیت موجود ہے لیکن پیکیجنگ، برانڈنگ، معیار اور عالمی تقاضوں کے مطابق تیاری پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔معرکہ حق کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ جس طرح مسلح افواج نظم و ضبط، قربانی اور قومی جذبے کے ساتھ ملک کا دفاع کرتی ہے اسی جذبے کو معاشی میدان میں بھی اپنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پانچ ایز فریم ورک کے تحت برآمدات، ڈیجیٹل پاکستان، ماحولیات، توانائی اور مساوات پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ پاکستان کو2047 تک ایک خوشحال، مضبوط اور خود مختار ریاست بنایا جا سکے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر قوم نے اجتماعی طور پر نظم و ضبط، محنت، استحکام اور قومی یکجہتی کا راستہ اختیار کیا تو آئندہ دس سے پندرہ برسوں میں پاکستان کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت مالیاتی اصلاحات، شفافیت اور پائیدار ترقی کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے،اکاونٹنسی کا شعبہ معاشی استحکام، شفاف حکمرانی، عوامی اعتماد کی بحالی اور پائیدار ترقی کے حصول میں کلیدی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاونٹنٹس آف پاکستان (آئی سی ایم اے) نے گزشتہ 75 برسوں کے دوران پیشہ ورانہ معیار کے فروغ،ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافے اور قومی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت تیز رفتار معاشی، تکنیکی اور جغرافیائی تبدیلیوں کے دور سے گزر رہی ہے جہاں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، عالمی سیاسی تبدیلیاں اور بدلتی ہوئی سماجی ترجیحات عالمی مالیاتی نظام کو نئی شکل دے رہی ہیں۔ایسے حالات میں اکاونٹنگ اور فنانس کے شعبے کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کے اکاونٹنگ پروفیشنلز صرف مالیاتی ریکارڈ مرتب کرنے تک محدود نہیں بلکہ وہ ادارہ جاتی قیادت کے مشیر،اسٹریٹجک پارٹنرز اور فیصلہ سازی،خطرات کے انتظام، کارکردگی کے تجزیے اور طویل المدتی منصوبہ بندی میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شفافیت اور احتساب کے اس دور میں اکاونٹنسی کا شعبہ معاشی استحکام کی بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ سرمایہ کار، حکومتیں، ضابطہ کار ادارے اور عوام درست اور قابل اعتماد مالیاتی معلومات پر انحصار کرتے ہیں۔اس لیے اکاونٹنگ پروفیشنلز پر لازم ہے کہ وہ دیانتداری، پیشہ ورانہ اخلاقیات اور شفافیت کے اعلی ترین معیار کو برقرار رکھیں۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، بلاک چین، کلاڈ کمپیوٹنگ اور اعداد و شمار کے تجزیاتی نظام،مالیاتی معلومات کی تیاری، تجزیے اور نگرانی کے طریقہ کار میں انقلابی تبدیلیاں لا رہے ہیں،لہذا اکاونٹنٹس کو اپنی پیشہ ورانہ مہارتوں میں مسلسل اضافہ اور ادارہ جاتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا تاکہ مستقبل کے چیلنجز کا موثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

انہوں نے آئی سی ایم اے پاکستان کو75 سال مکمل ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ سمٹ میں ہونے والی گفتگو اور سفارشات خطے بھر میں اکاونٹنگ اور مالیاتی شعبے کی ترقی میں معاون ثابت ہوں گی۔سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین نے زور دیا کہ دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور خودکار مالیاتی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے،اس لیے اکاونٹنسی کے شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ مستقبل کی معیشت میں ڈیجیٹل تبدیلی، اعداد و شمار کے تجزیاتی نظام، پائیدار کاروباری ماڈلز،ماحول دوست معاشی پالیسیوں اور شفاف مالیاتی نظام کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔سمٹ کے دوران علاقائی معاشی انضمام،عوامی شعبے کے نظم و نسق،ٹیکنالوجی پر مبنی مالیاتی حکمتِ عملی،ماحولیاتی و سماجی ذمہ داریوں،پائیدار اقتصادی ماڈلز اور بدلتی ہوئی دنیا میں اعتماد کی بحالی سمیت مختلف موضوعات پر کلیدی سیشنز اور پینل مباحثے بھی منعقد کئے گئے۔

ٹیگز: #economy #pakistan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *