حج کی اہمیت
Importance of Hajj
حج زندگی میں ایک ہی بار فرض ہے
Hajj is obligatory only once in a lifetime
🍃 عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ سَأَلَ النَّبِىَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْحَجُّ فِى كُلِّ سَنَةٍ أَوْ مَرَّةً وَاحِدَةً قَالَ بَلْ مَرَّةً وَاحِدَةً فَمَنْ زَادَ فَهُوَ تَطَوُّعٌ. [سنن ابی داود:1723] حسن
🍃 ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال (فرض) ہے یا ایک ہی بار؟
• آپ ﷺ نے فرمایا: بلکہ ایک ہی بار ہے اور جو اس سے زیادہ کرے تو وہ نفل ہے۔
🍃 It is narrated on the authority of Ibn ‘Abbas that Aqra’ ibn Habis ( رضی اللہ عنہ ) asked the Prophet (ﷺ): O Messenger of Allah ( ﷺ ) ! Is Hajj obligatory every year or only once?
The Prophet ( ﷺ ) said: Rather, it is only once and whoever does more than that then it is nafl.
استطاعت ہونے پر حج کا فریضہ ادا کرنے میں جلدی کرنا
Hastening to perform Hajj when eligible
🍃 عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ الْفَضْلِ أَوْ أَحَدِهِمَا عَنْ الْآخَرِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيَتَعَجَّلْ فَإِنَّهُ قَدْ يَمْرَضُ الْمَرِيضُ وَتَضِلُّ الضَّالَّةُ وَتَعْرِضُ الْحَاجَةُ [سنن ابن ماجة: 2883] حسن
🍃 عبد اللہ بن عباس یا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص حج کا ارادہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ جلدی کرے کیونکہ ممکن ہے آدمی بیمار ہو جائے یا اس کی سواری گم ہو جائے یا کوئی اور ضرورت پیش آ جائے۔ (جس کی وجہ سے وہ حج نہ کر سکے)۔
🍃It is narrated on the authority of Abdullah bin Abbas or Fadal bin Abbas that the Messenger of Allah ( ﷺ ) said: Whoever intends to perform Hajj, he should do so as soon as possible, because sometimes the ride gets lost, sometimes one gets sick and sometimes a need arises. (Due to which he could not perform Hajj).
Leave a Reply