تازہ ترین
وزیر اعظم شہباز شریف کی ٹیکس مقدمات کے حوالے سے بنائی گئی ٹاسک فورس کے ایکشن پلان کی منظوری ، ایکشن پلان کو ٹائم لائنز کے ساتھ پیش کرنے کی ہدایت
✓ لنک کاپی ہو گیا
اسلام آباد (اے پی پی) وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ٹیکس مقدمات کے حوالے سے بنائی گئی ٹاسک فورس کے ایکشن پلان کی منظوری دیتے ہوئے ایکشن پلان کو ٹائم لائنز کے ساتھ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر میں جاری اصلاحات کے حوالے سے جائزہ اجلاس منگل کو یہاں منعقد ہوا جس میں وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، شاد محمد خان سمیت ٹاسک فورس کے ارکان اور اعلی سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں ٹیکس مقدمات کے حوالے سے بنائی گئی ٹاسک فورس کی رپورٹ پیش کی گئی ۔ وزیر اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الحمدللہ ایف بی آر میں ڈیجیٹائزیشن اور جاری اصلاحات کے بہتر نتائج آرہے ہیں۔
وزیراعظم نے ٹاسک فورس کے سربراہ شاد محمد خان اور دیگر ممبران کی محنت اور جانفشانی سے رپورٹ مرتب کرنے پر تحسین کرتے ہوئے ٹاسک فورس کی طرف سے پیش کردہ ایکشن پلان کی منظوری دی اور ایکشن پلان کو ٹائم لائنز کے ساتھ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ٹیکس تنازعات کے جلد حل کے لئے آلٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن (اے ڈی آر) کے نظام کو مزید مثر بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اس نظام سے عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم ہو گا اور ٹیکس مقدمات کا فیصلہ جلد ہو گا۔
وزیر اعظم نے کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ سنٹرلائزڈ لیٹی گیشن مینجمنٹ سسٹم (سی ایل ایم ایس) کو جلد از جلد قائم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کے قانونی ونگ میں ضرورت کے مطابق بہترین افرادی قوت کی خدمات لی جائیں اور اس عمل میں میرٹ کو یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں ٹاسک فورس نے 6 اصلاحات پر مبنی ایکشن پلان پیش کیا جس میں کیس سکروٹنی کمیٹیوں کی تشکیل، سی ایل ایم ایس، کمشنرز سمیت تمام افسران کی کارکردگی کی رپورٹس کا مقدمات کے نتائج سے منسلک کیا جانا اور دیگر اصلاحات شامل ہیں۔ وزیر اعظم کو اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ ٹیکس کے تنازعات کے ڈیٹا کو منظم کرنے کے لئے خصوصی طور پر تیار کردہ سی ایل ایم ایس کا ڈیجیٹل نظام بنایا جائے گا، نئے نظام سے ٹیکس مقدمات اور تنازعات کی درست رپورٹنگ ممکن ہو گی جس سے ان مقدمات کی بروقت پیروی ہو سکے گی۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ رواں سال اے ڈی آر کے فورم سے اب تک ٹیکس تنازعات کے فیصلوں سے قومی خزانے میں 24 ارب روپے وصول ہو چکے ہیں۔
Leave a Reply