پاک بحریہ کی قوت میں بے پناہ اضافہ: پہلی ہنگور کلاس آبدوز ‘پی این ایس ہنگور’ پاک بحریہ کے بیڑے میں شامل
چین (سانیا): پاکستان اور چین کی لازوال دوستی اور دفاعی تعاون میں ایک اور سنہری باب کا اضافہ ہو گیا۔ پہلی ہنگور کلاس آبدوز ‘پی این ایس ہنگور’ (PNS/M HANGOR) کی باقاعدہ کمیشننگ کی تقریب چین کے شہر سانیا میں منعقد ہوئی۔
تقریب کے اہم شرکاء
صدرِ مملکت آصف علی زرداری اس تاریخی موقع پر مہمانِ خصوصی تھے، جبکہ پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف (نشانِ امتیاز، نشانِ امتیاز ملٹری، تمغہِ بسالت) نے بھی تقریب میں خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر پاک بحریہ اور چینی بحریہ (PLA Navy) کے اعلیٰ حکام کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔
صدرِ مملکت کا خطاب
صدر آصف علی زرداری نے آبدوز کی شمولیت کو پاک بحریہ کی جدید کاری میں ایک تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ:
- پاکستان اپنی خود مختاری، سمندری مفادات اور اقتصادی شہ رگوں کے تحفظ کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
- یہ اقدام پاکستان کے اس عزم کا عکاس ہے کہ ہم خطے میں ایک مضبوط، متوازن اور معتبر دفاعی پوزیشن برقرار رکھیں گے۔
نیول چیف کے اہم نکات
پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے عالمی تجارت اور توانائی کی سیکیورٹی کے حوالے سے سمندری راستوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا:
- جدید ٹیکنالوجی: ہنگور کلاس آبدوزیں جدید ترین ہتھیاروں، سینسرز اور ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن (AIP) سسٹم سے لیس ہیں، جو انہیں طویل عرصے تک زیرِ آب رہنے اور دشمن کی نظروں سے اوجھل رہنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہیں۔
- تاریخی تسلسل: ‘ہنگور’ کا نام ہماری قومی تاریخ میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ 1971ء کی جنگ میں پہلی ‘ہنگور’ نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد کسی جنگی جہاز کو غرق کرنے والی پہلی آبدوز ہونے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ نئی آبدوز اسی شاندار روایت کو آگے بڑھائے گی۔
- علاقائی استحکام: یہ آبدوزیں بحیرہ عرب اور بحر ہند میں تجارتی راستوں (SLOCs) کے تحفظ اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف مؤثر دفاعی حصار ثابت ہوں گی۔
قومی قیادت کی مبارکباد
اس تاریخی کامیابی پر وزیراعظم پاکستان، چیف آف آرمی اسٹاف (COAS) اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (CJCSC) نے پوری قوم اور بالخصوص پاک بحریہ کو مبارکباد پیش کی ہے۔
ترجمان پاک بحریہ (آئی ایس پی آر)




Leave a Reply