فتح-II میزائل کا کامیاب تجربہ: پاک فوج کی دفاعی صلاحیت میں اہم اضافہ
صدر پاکستان، وزیر اعظم، چیف آف ڈیفنس فورسز اور مسلح افواج کے سربراہان نے میزائل کے کامیاب تربیتی تجربے میں حصہ لینے والے تمام ماہرین اور عملے کی تکنیکی مہارت، لگن اور عزم کو خراج تحسین پیش کیا۔
مقامی ٹیکنالوجی سے تیار جدید میزائل سسٹم کا کامیاب تربیتی لانچ
آئی ایس پی آر راولپنڈی، 28 اپریل 2026
آج آرمی راکٹ فورس کمانڈ نے مقامی طور پر تیار کردہ فتح-II میزائل سسٹم کا کامیاب تربیتی تجربہ کیا، جو جدید ایویونکس اور جدید ترین نیویگیشن نظام سے لیس ہے۔
اس تربیتی لانچ کا مقصد فوجی دستوں کی عملی تربیت، مختلف تکنیکی پہلوؤں کی جانچ اور بہتر درستگی و مؤثر کارکردگی کے لیے شامل کیے گئے مختلف ذیلی نظاموں کی کارکردگی کا جائزہ لینا تھا۔
اس موقع پر اسٹریٹیجک پلانز ڈویژن، آرمی راکٹ فورس کمانڈ اور پاک فوج کے سینئر افسران کے علاوہ اسٹریٹیجک اداروں کے سائنسدانوں اور انجینئرز نے بھی شرکت کی۔ فورم نے فتح سیریز کے مقامی طور پر تیار کردہ میزائل کے کامیاب تجربے کو سراہا۔
صدر پاکستان، وزیر اعظم، چیف آف ڈیفنس فورسز اور مسلح افواج کے سربراہان نے میزائل کے کامیاب تربیتی تجربے میں حصہ لینے والے تمام ماہرین اور عملے کی تکنیکی مہارت، لگن اور عزم کو خراج تحسین پیش کیا۔
خصوصی تجزیاتی رپورٹ: دوست نیوز
فتح-II میزائل سسٹم کے حالیہ کامیاب تربیتی تجربے کو محض ایک معمول کی فوجی سرگرمی سمجھنا حقیقت سے آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہوگا، کیونکہ اس کے اندر پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی، ٹیکنالوجی میں خود انحصاری اور خطے میں بدلتے ہوئے سکیورٹی توازن کی ایک واضح جھلک موجود ہے۔ آرمی راکٹ فورس کمانڈ کی جانب سے اس جدید میزائل سسٹم کا کامیاب لانچ دراصل اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنے دفاع کو مضبوط بنا رہا ہے بلکہ جدید جنگی تقاضوں کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو مسلسل اپ گریڈ بھی کر رہا ہے۔
فتح-II میزائل سسٹم کی نمایاں خصوصیت اس میں شامل جدید ایویونکس اور جدید نیویگیشن سسٹمز ہیں، جو اسے زیادہ درست اور مؤثر بناتے ہیں۔ جدید جنگی حکمتِ عملی میں “پریسیژن اسٹرائیک” یعنی ہدف کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنانا بنیادی اہمیت اختیار کر چکا ہے، اور یہی وہ پہلو ہے جس پر دنیا کی بڑی فوجیں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کا اس ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنا نہ صرف دفاعی لحاظ سے اہم ہے بلکہ یہ ملک کی سائنسی اور تکنیکی ترقی کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
اس تجربے کا ایک اہم پہلو “انڈیجنس ڈیویلپمنٹ” یعنی مقامی سطح پر تیاری ہے۔ پاکستان کا دفاعی شعبہ گزشتہ چند دہائیوں سے اس سمت میں پیش رفت کر رہا ہے کہ وہ بیرونی انحصار کم کرے اور اپنی ضروریات خود پوری کرے۔ فتح سیریز کے میزائل اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جو نہ صرف ملک کو اسٹریٹیجک خودمختاری فراہم کرتے ہیں بلکہ طویل مدت میں معاشی لحاظ سے بھی فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ بیرونِ ملک سے مہنگے دفاعی نظام خریدنے کے بجائے مقامی سطح پر تیاری نہ صرف زرمبادلہ کی بچت کرتی ہے بلکہ مقامی انڈسٹری، سائنسدانوں اور انجینئرز کو بھی ترقی کے مواقع فراہم کرتی ہے۔
علاقائی تناظر میں اس پیش رفت کو مزید اہمیت حاصل ہو جاتی ہے۔ جنوبی ایشیا ایک حساس خطہ ہے جہاں دفاعی توازن ہمیشہ ایک نازک معاملہ رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کی جانب سے اپنی میزائل صلاحیتوں کو بہتر بنانا ایک “ڈیٹرنس” یعنی روک تھام کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق مضبوط ڈیٹرنس ہی خطے میں امن کو برقرار رکھنے کا ایک موثر ذریعہ ہے، کیونکہ جب کسی ملک کے پاس مؤثر دفاعی صلاحیت موجود ہو تو ممکنہ جارحیت کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
تاہم اس پیش رفت کو صرف عسکری طاقت کے زاویے سے دیکھنا بھی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ اس کے اندر ایک سائنسی انقلاب کی جھلک بھی موجود ہے۔ اس پروگرام میں شامل سائنسدانوں، انجینئرز اور ٹیکنیکل ماہرین کی محنت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان میں ہائی ٹیک سیکٹر میں صلاحیت موجود ہے، جسے اگر مزید وسائل اور پالیسی سپورٹ دی جائے تو یہ شعبہ نہ صرف دفاع بلکہ سویلین ٹیکنالوجی میں بھی انقلاب لا سکتا ہے۔
دوسری جانب یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ دفاعی اخراجات اور معاشی چیلنجز کے درمیان توازن برقرار رکھنا پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایک طرف سکیورٹی ضروریات ہیں تو دوسری طرف معیشت کو مستحکم کرنے کی ضرورت۔ اس لیے مستقبل کی پالیسی سازی میں یہ ضروری ہوگا کہ دفاعی ترقی کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام، تعلیم، اور ٹیکنالوجی کے دیگر شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کو یقینی بنایا جائے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ فتح-II میزائل کا کامیاب تجربہ پاکستان کے لیے صرف ایک دفاعی کامیابی نہیں بلکہ ایک اسٹریٹیجک پیغام بھی ہے—ایک ایسا پیغام جو خود انحصاری، ٹیکنالوجی کی ترقی اور مضبوط دفاعی حکمتِ عملی کو یکجا کرتا ہے۔ اگر اس رفتار کو برقرار رکھا گیا تو پاکستان نہ صرف اپنے دفاع کو مزید مضبوط بنا سکے گا بلکہ عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس ریاست کے طور پر بھی اپنی پہچان مستحکم کر سکے گا۔
Leave a Reply