پاکستان مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے دوران جنوبی ایشیا سے آگے بڑھ کر ایک مرکزی کردار کے طور پر سامنے آیا ہے، امریکی میگزین
جدید دور میں ’’ملٹری ڈپلومیسی‘‘ خارجہ پالیسی کا ایک اہم جزو بن چکی ہے
اسلام آبا د ۔25اپریل (دوست نیوز):بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان بین الاقوامی سفارتکاری کے میدان میں ایک اہم کردار کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے اور امریکا اور ایران کے درمیان جاری بحران میں ایک مرکزی ثالث کی حیثیت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔امریکی جریدے دی نیشن انٹر سٹ میں شائع ایک حالیہ مضمون کے مطابق پاکستان کی عسکری قیادت پیچیدہ اور حساس سفارتی صورتحال کو کامیابی مرکزی کردارے سنبھال رہی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان خطے کی سیاست کے حاشیے سے نکل کر ایک فعال اور مرکزی کھلاڑی کے طور پر سامنے آیا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اپریل کے وسط میں پاکستان نے اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی مذاکرات کی میزبانی کی، جن میں امریکی اور ایرانی وفود کے سینئر ارکان نے شرکت کی۔ یہ 1979 کے بعد دونوں ممالک کے درمیانمرکزی کردار پہلی براہِ راست اعلیٰ سطحی ملاقات قرار دی جا رہی ہے۔یہ سفارتی پیش رفت آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی نگرانی میں ممکن ہوئی، جنہوں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مختلف سفارتی روابط کو فعال کیا۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کی عسکری قیادت کی ’’غیر روایتی سفارتکاری‘‘ نے ان مذاکرات کی راہ ہموار کی، جہاں روایتی سفارتی چینلز ناکام ہوتے دکھائی دے رہے تھے۔مضمون میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کی اس سفارتی اہمیت کی ایک بڑی وجہ اس کے علاقائی طاقتوں بشمول چین، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، مصر اور اردن کے ساتھ مضبوط روابط ہیں۔سابق سیکرٹر ی خارجہ اعزاز احمد چوہدری کے مطابق جدید دور میں ’’ملٹری ڈپلومیسی‘‘ خارجہ پالیسی کا ایک اہم جزو بن چکی ہے، جہاں ریاستیں اپنی مسلح افواج کی غیر روایتی صلاحیتوں کو سفارتی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا منظم عسکری ڈھانچہ اور اس کی پیشہ ورانہ صلاحیت اسے عالمی سطح پر ایک قابل اعتماد شراکت دار بناتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں پاکستان کی اعلیٰ عسکری قیادت کے ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے دوروں نے اس کے علاقائی اثر و رسوخ کو مزید تقویت دی ہے۔رپورٹ کے مطابق ستمبر 2025 میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے نے بھی خطے میں پاکستان کے کردار کو مزید مضبوط کیا ہے۔اگرچہ خطے میں پائیدار امن کا حصول اب بھی ایک پیچیدہ عمل ہے، تاہم پاکستان کی سفارتی کوششوں کو ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس نے نہ صرف جاری کشیدگی میں کمی کی امید پیدا کی ہے بلکہ پاکستان کو ایک اہم امن شراکت دار کے طور پر بھی اجاگر کیا ہے۔
Leave a Reply