مرنے والے کے لیے استغفار کا حکم
The command to pray for forgiveness for the deceased
🍃 عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ مِنْ دَفْنِ الْمَيِّتِ وَقَفَ عَلَيْهِ فَقَالَ اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ وَسَلُوا لَهُ بِالتَّثْبِيتِ فَإِنَّهُ الْآنَ يُسْأَلُ. [سنن أبي داود:3221] إسناده حسن
🍃 عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب میت کو دفن کر کے فارغ ہو جاتے تو قبر پر رکتے اور فرماتے ”اپنے بھائی کے لیے استغفار کرو اور ثابت قدمی کی دعا کرو بیشک اب اس سے سوال کیا جائے گا۔“
🍃 Uthman ibn Affan (رضی اللہ عنہ) narrated that when The Prophet (ﷺ) finished burying a deceased person, he would stand by the grave and say:
Seek forgiveness for your brother and ask for firmness for him, for indeed he is now being questioned.
🍃نوٹ:
- حدیث سے معلوم ہوا کہ میت سے قبر میں باز پرس ہوتی ہے۔
- جب کوئی موحد مسلمان فوت ہو جائے تو اسے قبر میں دفن کرنے کے بعد اس کے حق میں حساب کی آسانی اور ثابت قدمی کے لیے دعا کرنا مسنون ہے۔
- قبر سے یا قبرستان سے چالیس قدم دُور آ کر دعا کرنے اور اس کے علاوہ دیگر رسمیں ادا کرنے والی بات بالکل غلط ہے۔ اس کا شریعت اسلامی میں قطعاً کوئی ثبوت نہیں ملتا۔
Leave a Reply