اعمال جن کے کرنے سے گناہ معاف ہوتے ہیں Those which Deeds by sins are forgiven
سُبْحَانَ اللَّهِ: اللہ کو ہر عیب، ہر کمزوری اور ہر شریک سے پاک قرار دینا تسبیح کہلاتا ہے
درج ذیل کلمات تمام گناہوں کا کفارہ
The following words are an expiation for all sins
🍃 عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ كُفِّرَتْ ذُنُوبُهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ. [مسند أحمد:6405]
🍃 عبد اللہ ابن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا جو آدمی یہ کہہ لے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور اللہ بہت بڑا ہے، تمام تعریف اللہ کے لیے ہے، اللہ پاک ہے، گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی ہمت صرف اللہ ہی کی طرف سے ملتی ہے۔
• تو یہ اس کے سارے گناہوں کا کفارہ بن جائیں گے اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی ہوں۔
حدیثِ مبارکہ کی جامع تشریح اور گناہوں کی معافی کا قرآنی و نبوی تصور
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مروہ یہ حدیثِ مبارکہ (مسند احمد: 6405) اپنے اندر امید اور مغفرت کا ایک ایسا ٹھاٹھیں مارتا سمندر رکھتی ہے جو مومن کے دل کو اللہ کی رحمت سے بھر دیتا ہے۔ پانچ مختصر مگر جامع کلمات کی فضیلت کا یہ بیان محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ بندے کا اپنے خالق کے سامنے مکمل سپردگی اور اس کی بڑائی کا اعتراف ہے۔
ذیل میں اس حدیث کی مفصل تشریح مختلف پہلوؤں سے پیش کی جا رہی ہے:
1. کلماتِ خمسہ (پانچ کلمات) کی حقیقت
اس حدیث میں ذکر کردہ پانچ کلمات دراصل “باقیات صالحات” (باقی رہ جانے والی نیکیاں) کی بنیاد ہیں۔ ان کی معنویت درج ذیل ہے:
- لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ: یہ توحید کا خالص ترین بیان ہے۔ اس کا اقرار کرنے والا تمام باطل خداؤں، خواہشاتِ نفس اور دنیاوی سہارے توڑ کر صرف اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔
- اللَّهُ أَكْبَرُ: جب انسان اللہ کو سب سے بڑا تسلیم کر لیتا ہے، تو اس کی نظر میں گناہ کی لذت اور دنیا کی ہیبت چھوٹی ہو جاتی ہے۔
- الْحَمْدُ لِلَّهِ: یہ شکر گزاری کی انتہا ہے۔ ہر حال میں اللہ کی تعریف کرنا اس کے فیصلوں پر رضا مندی کی علامت ہے۔
- سُبْحَانَ اللَّهِ: اللہ کو ہر عیب، ہر کمزوری اور ہر شریک سے پاک قرار دینا تسبیح کہلاتا ہے۔
- لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ: یہ کلمہ دراصل بندے کی عاجزی کا اعتراف ہے کہ نہ میں اپنی مرضی سے گناہ چھوڑ سکتا ہوں اور نہ نیکی کی طاقت رکھتا ہوں جب تک اللہ کی توفیق شاملِ حال نہ ہو۔
2. گناہوں کی سمندر کی جھاگ سے تشبیہ
حدیث میں گناہوں کو “زبد البحر” (سمندر کی جھاگ) سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اس تمثیل میں گہرے معنی چھپے ہیں:
- کثرت: سمندر کی جھاگ ان گنت ہوتی ہے، جس طرح انسان کے صغیرہ گناہ کثرت میں شمار سے باہر ہو سکتے ہیں۔
- بے ثباتی: جھاگ جتنی بھی زیادہ ہو، وہ پانی کی سطح پر ایک عارضی چیز ہے۔ جیسے ہی توبہ اور ذکر کی لہر آتی ہے، یہ جھاگ مٹ جاتی ہے۔
- رحمت کی وسعت: یہ تشبیہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ گناہ چاہے کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں، اللہ کی رحمت کا سمندر ان سے کہیں زیادہ وسیع ہے، جو ایک پل میں انہیں دھو ڈالتا ہے۔
3. گناہوں کے کفارے سے کیا مراد ہے؟
علماء و محدثین اس حوالے سے واضح کرتے ہیں کہ ان اذکار سے مراد عام طور پر “گناہِ صغیرہ” کی معافی ہے۔
- گناہِ صغیرہ: وہ روزمرہ کی خطائیں جو نادانستہ یا بشری تقاضوں کے تحت ہو جاتی ہیں۔
- گناہِ کبیرہ: بڑے گناہوں (جیسے شرک، قتل، زنا، والدین کی نافرمانی) کیلئے خالص توبہ اور ندامت شرط ہے۔
- حقوق العباد: اگر کسی انسان کا حق مارا گیا ہو، تو جب تک اس سے معافی نہ مانگی جائے یا اس کا حق ادا نہ کیا جائے، صرف ذکر سے وہ گناہ معاف نہیں ہوتا۔
تاہم، اللہ کی رحمت سے بعید نہیں کہ ان کلمات کی برکت سے اللہ بندے کو توبہ کی توفیق عطا فرما دے یا اس کے حق والے کا دل نرم کر دے۔
4. ذکر کا نفسیاتی اور روحانی اثر
جدید دور میں جب انسان ذہنی دباؤ اور گناہوں کی بوجھ تلے دبا ہوا ہے، یہ کلمات ایک “ڈی ٹاکس” (صفائی) کا کام کرتے ہیں۔
- عاجزی پیدا ہونا: جب بندہ کہتا ہے “لا حول ولا قوۃ”، تو اس کے اندر سے تکبر ختم ہوتا ہے۔
- امید کا چراغ: یہ حدیث گناہگار کو مایوسی سے نکالتی ہے۔ شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار یہ ہے کہ وہ گناہگار کو اللہ کی رحمت سے مایوس کر دے، جبکہ یہ حدیث بتاتی ہے کہ واپسی کا راستہ ہر وقت کھلا ہے۔
5. عملی زندگی میں اس کا نفاذ
اس حدیث سے فائدہ اٹھانے کیلئے اسے اپنی زندگی کا معمول بنانا ضروری ہے:
- اوقات کا انتخاب: صبح و شام، نمازوں کے بعد، یا فارغ اوقات میں چلتے پھرتے ان کلمات کا ورد کریں۔
- سوچ و تدبر: کلمات پڑھتے ہوئے ان کے معنی پر غور کریں کہ آپ اللہ کی وحدانیت اور اپنی بے بسی کا اقرار کر رہے ہیں۔
- استقامت: ذکر کی کثرت انسان کے گرد ایک روحانی حصار قائم کر دیتی ہے جو اسے نئے گناہوں سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
حاصلِ کلام
اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کیلئے بخشش کے بہانے ڈھونڈے ہیں۔ یہ پانچ کلمات زبان پر ہلکے لیکن میزان میں بہت بھاری ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی روایت کردہ یہ بشارت ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ کا دربار کبھی بند نہیں ہوتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زبانوں کو ان مبارک کلمات سے تر رکھیں تاکہ جب ہم خالقِ حقیقی کے سامنے پیش ہوں تو ہمارے گناہوں کا دفتر دھل چکا ہو اور ہم پاک صاف ہو کر اس کی جنت کے حقدار بن سکیں۔
Leave a Reply