اسلام آباد۔20اپریل (دوست نیوز):ملک بھر میں سونے کی قیمت میں 4,900 روپے کمی کے ساتھ فی تولہ سونا 5 لاکھ 1 ہزار 1 سو 62 روپے کا ہوگیا ۔آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق پیر کو سونے کی فی تولہ قیمت میں 4,900 روپے کمی کے بعد فی تولہ سونا 5 لاکھ 1 ہزار 1 سو 62 روپے کا ہوگیا ہے، 24 قیراط سونے کے 10 گرام کی قیمت بھی 4,201 روپے کمی کے بعد 433,866 روپے سے کم ہو کر 429,665 روپے ہوگئی جبکہ 10 گرام 22 قیراط سونے کی قیمت 397,724 روپے سے کم ہو کر 393,873 روپے ہوگئی۔
آل سندھ صرافہ جیولرز ایسوسی ایشن نے رپورٹ کیا کہ فی تولہ چاندی کی قیمت 145 روپے کمی سے 8,417 اور دس گرام چاندی کی قیمت 124 روپے کمی کے بعد 7,216 روپے ہو گئی۔ ایسوسی ایشن نے رپورٹ کیا ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 4,837 ڈالر سے کم ہو کر 4,788 ڈالر ہو گئی۔
خصوصی رپورٹ: دوست نیوز (Dost News)
سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی: مارکیٹ کے بدلتے رجحانات اور سرمایہ کاروں کے لیے اہم تجزیہ
اسلام آباد: پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں ایک بڑا بریک تھرو سامنے آیا ہے، جہاں فی تولہ سونے کی قیمت میں 4,900 روپے کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس حالیہ گراوٹ کے بعد 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت 5 لاکھ 1 ہزار 1 سو 62 روپے کی سطح پر آ گئی ہے۔ یہ کمی ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں مسلسل ریکارڈ توڑ بلندیوں کو چھو رہی تھیں۔
گزشتہ تین ماہ کا پس منظر اور جائزہ
اگر ہم گزشتہ تین ماہ (جنوری سے مارچ 2026) کا جائزہ لیں تو سونے کی مارکیٹ میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی ہے۔ سال کے آغاز میں سونا ساڑھے چار لاکھ روپے کی سطح کے قریب تھا، لیکن عالمی سطح پر جغرافیائی و سیاسی تناؤ (Geopolitical Tensions) اور مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کے ذخائر میں اضافے نے قیمتوں کو مہمیز دی۔
- جنوری – فروری: عالمی کساد بازاری کے خدشات اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کی وجہ سے سرمایہ کاروں نے “محفوظ پناہ گاہ” (Safe Haven) کے طور پر سونے کا رخ کیا۔ پاکستان میں روپے کی قدر میں معمولی استحکام کے باوجود عالمی قیمتوں کے دباؤ نے قیمتوں کو 4 لاکھ 80 ہزار سے اوپر برقرار رکھا۔
- مارچ – اپریل کا آغاز: اپریل کے شروع تک سونا اپنی تاریخی بلند ترین سطح 5 لاکھ سے تجاوز کر گیا تھا۔ یہ ایک نفسیاتی حد (Psychological Barrier) تھی جس نے خریداروں کو تذبذب میں ڈال دیا تھا۔ حالیہ 4,900 روپے کی کمی اسی بلند ترین سطح سے ایک ‘پرائس کریکشن’ (Price Correction) قرار دی جا رہی ہے۔
موجودہ مارکیٹ تجزیہ: کمی کی وجوہات
آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، 10 گرام 24 قیراط سونے کی قیمت بھی 4,201 روپے کمی کے بعد 429,665 روپے ہو گئی ہے۔ اس اچانک کمی کے پیچھے چند اہم عوامل کارفرما ہیں:
- عالمی مارکیٹ میں استحکام: بین الاقوامی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں معمولی گراوٹ اور ڈالر کی قدر میں عالمی سطح پر استحکام نے سونے پر دباؤ کم کیا ہے۔
- مقامی طلب میں کمی: پانچ لاکھ روپے فی تولہ کی سطح عبور کرنے کے بعد مقامی مارکیٹ میں زیورات کی طلب میں واضح کمی دیکھی گئی، جس کی وجہ سے ڈیلرز نے قیمتوں میں لچک دکھائی۔
- روپے کی قدر: پاکستان میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں حالیہ بہتری نے بھی درآمدی سونے کی قیمت کو نیچے لانے میں مدد دی ہے۔
دوست نیوز تجزیہ: اگلی چال کیا ہوگی؟ (What’s Next?)
سرمایہ کاروں اور عام صارفین کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا سونا مزید سستا ہوگا یا یہ خریدنے کا بہترین وقت ہے؟ دوست نیوز (Dost News) کے ماہرین کے مطابق:
- مختصر مدتی رجحان (Short-term): سونے کی قیمتوں میں مزید 5 سے 10 ہزار روپے کی گنجائش موجود ہے، اگر عالمی سطح پر کوئی نیا تنازعہ کھڑا نہیں ہوتا۔ تاہم، 5 لاکھ کی سطح اب ایک مضبوط سپورٹ زون بن چکی ہے۔
- طویل مدتی رجحان (Long-term): عالمی افراطِ زر (Inflation) اور ڈالر کی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر، طویل مدت میں سونا اب بھی سرمایہ کاری کا بہترین آلہ ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ 2026 کے آخر تک سونا ایک بار پھر نئی بلندیوں کو چھو سکتا ہے۔
سرمایہ کاروں کے لیے مشورہ
اگر آپ خالص سرمایہ کاری (Investment) کے خواہشمند ہیں تو “بائی آن ڈپ” (Buy on Dip) کی حکمت عملی اپنائیں۔ یعنی جب بھی قیمتوں میں 4 سے 5 ہزار روپے کی بڑی کمی آئے، تو کچھ حصہ خرید لیں۔ ایک ساتھ تمام پونجی لگانے کے بجائے مرحلہ وار خریداری کرنا زیادہ منافع بخش ثابت ہو سکتا ہے۔
نتیجہ: سونے کی قیمت میں 4,900 روپے کی کمی ایک خوش آئند علامت ہے، خاص طور پر ان خاندانوں کے لیے جو شادی بیاہ کے سیزن کے لیے خریداری کے منتظر تھے۔ تاہم، مارکیٹ اب بھی “ہائی رسک” زون میں ہے، اس لیے کسی بھی بڑے فیصلے سے قبل روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے اتار چڑھاؤ پر نظر رکھنا ضروری ہے۔
رپورٹ: دوست نیوز تجزیاتی ڈیسک



