محمد خالد
زندگی ایک عجیب سی حقیقت ہے… ہم سب اس دنیا میں ایسے مصروف ہو چکے ہیں جیسے یہاں ہمیشہ رہنا ہو۔ ہر دن نئی دوڑ، نئی خواہش، نیا مقابلہ… مگر کبھی ہم نے رک کر خود سے یہ سوال کیا ہے کہ ہم نے کون سا یہاں صدیاں گزارنی ہیں؟
آج انسان دولت کے پیچھے بھاگ رہا ہے، کل شہرت کے لیے، اور پرسوں طاقت کے لیے… مگر آخر میں ہاتھ کیا آتا ہے؟ چند یادیں، چند لمحے… اور ایک خاموش قبر۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم اس دنیا میں مہمان ہیں، اور مہمان کبھی ہمیشہ کے لیے نہیں ٹھہرتا۔
ہم دوسروں کو نیچا دکھانے میں، حسد اور نفرت میں، اپنے ہی دل کو جلاتے رہتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ جس کو آج ہم تکلیف دے رہے ہیں، کل ہم خود بھی اسی زمین کے نیچے ہوں گے۔ پھر نہ کوئی غرور کام آئے گا، نہ کوئی طاقت، نہ کوئی دولت۔
ذرا سوچیں… جب انسان کی سانس رک جاتی ہے تو اس کے سب خواب، سب منصوبے، سب لڑائیاں وہیں ختم ہو جاتی ہیں۔ جو باقی رہتا ہے وہ صرف اس کے اعمال ہوتے ہیں۔ وہ مسکراہٹیں جو ہم نے بانٹیں، وہ مدد جو ہم نے کی، وہ دل جو ہم نے جیتے… یہی اصل سرمایہ ہے۔
ہم نے اس دنیا میں صرف وقت گزارنا ہے، اور وہ بھی اتنا کہ پلک جھپکنے میں گزر جائے۔ تو کیوں نہ اس وقت کو خوبصورت بنایا جائے؟ کیوں نہ کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لائی جائے؟ کیوں نہ کسی کے دکھ کو کم کیا جائے؟
یاد رکھیں…
یہ دنیا فانی ہے، یہ وقت عارضی ہے، اور ہم سب مسافر ہیں۔
اصل کامیابی یہ نہیں کہ ہم نے کیا پایا، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے کیا دیا۔
تو آج سے خود سے ایک وعدہ کریں…
نفرت کو چھوڑیں، محبت کو اپنائیں، غرور کو دفن کریں، اور انسانیت کو زندہ کریں۔
کیونکہ آخر میں یہی سوال گونجے گا…
ہم نے کون سا یہاں سداں گزارنی ہیں؟



