باہمی تعاون کےفروغ پر تبادلہ خیال
اپریل 17, 2026
اسلام آباد۔17اپریل (دوست نیوز):وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں آئی ایم ایف ورلڈ بینک سپرنگ اجلاسوں کے چوتھے روز چینی قیادت، عالمی مالیاتی اداروں، سرمایہ کاروں اور میڈیا کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں جن میں پاکستان کے بہتر ہوتے معاشی اشاریوں، بیرونی مالی وسائل کے حصول اور سٹریٹجک اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے کی کوششوں کو اجاگر کیا گیا۔چینی وزیر خزانہ لان فوآن کے ساتھ ملاقات کے دوران وزیرخزانہ نے پاکستان کے لیے چین کی مستقل اور غیر متزلزل حمایت اور آئی ایم ایف میں چین کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے تعمیری کردار کو سراہا جنہوں نے پاکستان کے پروگرام میں معاونت کی۔ یہ بات وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں بتائی گئی۔انہوں نے اپنے چینی ہم منصب کو آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان کی پیش رفت سے آگاہ کیا جس میں تھرڈ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (EFF)کے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (RSF) کے دوسرے جائزے کے لیے سٹاف لیول معاہدے کی کامیاب تکمیل شامل ہے جبکہ آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری مئی کے اوائل میں متوقع ہے۔انہوں نے چینی حکام کو بتایا کہ پاکستان نے کامیابی سے 1.4 ارب ڈالر کا یورو بانڈ واپس کر دیا ہے اور سعودی عرب سے اضافی مالی معاونت بھی حاصل کی ہے۔
وزیر خزانہ نے پاکستان کے پہلے پانڈا بانڈ کے اجرا سے متعلق پیش رفت سے بھی آگاہ کیا اور دوطرفہ تجارت میں رینمبی کے بڑھتے ہوئے استعمال کو اجاگر کرتے ہوئے کرنسی سویپ سہولت میں توسیع کی ضرورت پر زور دیا تاکہ بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں کو سہارا دیا جا سکے۔انہوں نے جاری علاقائی تنازعے میں پاکستان کے فعال ثالثی کردار کو تسلیم کرنے پر چین کا شکریہ ادا کیا اور شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی آئندہ صدارت کے دوران ایس سی او ڈویلپمنٹ بینک کے قیام کے لیے پاکستان کی مکمل اور غیر مشروط حمایت کا اعادہ کیا۔ ملاقات کا اختتام آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک میں جاری تعاون کو سراہتے ہوئے ہوا۔چین کے مرکزی بینک (پیپلز بینک آف چائنا) کے گورنر ڈاکٹر پان گونگ شینگ کے ساتھ علیحدہ ملاقات میں وزیر نے آئی ایم ایف پروگرام کے جائزوں اور پاکستان کی مالیاتی حکمت عملی بشمول پانڈا بانڈ کے اجرا میں پیش رفت پر بریفنگ دی اور ریگولیٹری منظوریوں کو تیز کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے جاری علاقائی تنازعے کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی فعال پالیسیوں جیسے ہدفی سبسڈیز اور طلب کے انتظامی اقدامات، پر بھی روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر پان نے وزیر خزانہ کو مستقبل قریب میں بیجنگ کے دورے کی دعوت دی۔اس سے قبل انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈویلپمنٹ (IFAD) کے صدر الوارو لاریو کے ساتھ ملاقات میں وزیر نے زراعت کو قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے پیداوار اور ویلیو چین کی ترقی میں موجود ساختی چیلنجز کا اعتراف کیا۔ انہوں نے حکومت کے زرعی اصلاحاتی ایجنڈے پر روشنی ڈالی جس میں قیادت کی تنظیم نو، بین الاقوامی تربیت کے ذریعے استعداد کار میں اضافہ اور اہم اجناس کے شعبوں میں ڈی ریگولیشن شامل ہیں۔وزیر نے آئی ایف اے ڈی کے پروگرام کو قومی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی زرعی ٹاسک فورس کے ساتھ براہ راست روابط کی تجویز دی۔وفاقی وزیر خزانہ اورنگزیب نے آئی ایم ایف کے نائجل کلارک کے ساتھ بھی ملاقات کی جس میں انہوں نے پاکستان کے معاشی منظرنامے، بیرونی مالیاتی پوزیشن اور پروگرام کے نفاذ سے متعلق آگاہ کیا۔ فریقین نے عالمی اور علاقائی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر شرح مبادلہ میں لچک اور مالی گنجائش برقرار رکھنے کی اہمیت پر اتفاق کیا۔انہوں نے روتھس چائلڈ اینڈ کمپنی کے سینئر نمائندوں سے بھی ملاقات کی اور چار سال کے وقفے کے بعد بین الاقوامی سرمایہ مارکیٹوں میں دوبارہ داخل ہونے کے پاکستان کے منصوبوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے یورو بانڈز، پانڈا بانڈز اور ڈالر میں طے شدہ جبکہ روپے سے منسلک لین دین جیسے اہم مالیاتی ذرائع کا ذکر کیا۔
انہوں نے لائیبلیٹی مینجمنٹ آپریشنز (LMOs) کے حوالے سے ادارے کے مشوروں کو سراہا جن کا مقصد مارکیٹ کا اعتماد بحال کرنا اور پاکستان کی ییلڈ کَرو کو بہتر بنانا ہے۔ فریقین نے قرض کے اخراجات کم کرنے کے لیے ملٹی لیٹرل ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مشترکہ مالیاتی منصوبوں کی اہمیت پر اتفاق کیا۔ وزیر خزانہ نے جے پی مورگن کی سرمایہ کاری سیمینار میں شرکت کی اور پاکستان کی معاشی استحکام، آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پیش رفت اور بیرونی ذمہ داریوں کی تکمیل کے عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے جاری بحران کے تناظر میں توانائی کے انتظام کی حکمت عملی پر تفصیلی روشنی ڈالی جس میں طلب کے انتظام، مارکیٹ پر مبنی ایڈجسٹمنٹس اور کمزور طبقات کے لیے ہدفی سبسڈیز شامل ہیں۔موڈیز کے ساتھ ملاقات میں وزیر خزانہ نے پاکستان کی بہتر ہوتی بیرونی پوزیشن کا اعادہ کیا اور یورو بانڈ کی کامیاب ادائیگی اور تمام قرض دہندگان کو بروقت ادائیگیوں کا ذکر کیا۔انہوں نے اوپیک فنڈ برائے بین الاقوامی ترقی کے سی ای او ڈاکٹر عبدالحمید الخلیفہ سے بھی ملاقات کی اور ادارے کے تمام مالیاتی ذرائع، بشمول خودمختار، نجی شعبہ اور اسلامی مالیاتی آلات سے فائدہ اٹھانے میں دلچسپی ظاہر کی۔
موجودہ علاقائی تناظر میں پانی کے بنیادی ڈھانچے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے ماحولیاتی اقدامات، غذائی تحفظ اور ڈیجیٹل تبدیلی میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے اوپیک فنڈ کی قیادت کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی اور ویانا میں ہونے والے آئندہ پروگرام میں شرکت کی دعوت کو سراہا۔واشنگٹن ڈی سی میں وزیر خزانہ اور امریکا میں پاکستان کے سفیر کی موجودگی میں ایک معاہدے پر دستخط کی تقریب بھی منعقد ہوئی جس کے تحت سعودی فنڈ فار ڈویلپمنٹ کی جانب سے سٹیٹ بینک پاکستان میں جمع 3 ارب ڈالر کی رقم کی مدت میں توسیع کی گئی۔ اس معاہدے پر ایس ایف ڈی کے سی ای او سلطان المرشد اور سٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے دستخط کیے۔وزیر خزانہ نے امریکی اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں سے بھی گفتگو کی اور پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی صورتحال، مستحکم ترقی کی رفتار اور مضبوط مالیاتی نظم و ضبط کو اجاگر کیا۔پریس ریلیز کے مطابق وفاقی وزیر کی ملاقاتیں اور میڈیا سے گفتگو پاکستان کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہیں کہ وہ معاشی استحکام، ساختی اصلاحات اور فعال اقتصادی سفارت کاری کے ذریعے عالمی شراکت داری کو فروغ ، تجارت کو وسعت اور پائیدار مالی وسائل حاصل کر کے طویل مدتی ترقی کو یقینی بنائے گ



