
اسلام آباد۔16اپریل (دوست نیوز):وفاقی آئینی عدالت نے کچی آبادیوں کی ریگولرائزیشن سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران کیپٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو چار ہفتوں کے اندر کچی آبادیوں کی ریگولرائزیشن پالیسی مرتب کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت چار ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔کیس کی سماعت جمعرات کو چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران کچی آبادیوں کے مکینوں کی جانب سے معروف وکیل فیصل صدیقی پیش ہوئے جبکہ سی ڈی اے اور وفاق کی جانب سے بھی قانونی نمائندگان عدالت میں موجود تھے۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر فریقین کیس پر تیار ہیں تو دلائل کا آغاز کیا جائے۔ اس پر فیصل صدیقی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وہ سی ڈی اے کی رپورٹ پر جواب جمع کرانا چاہتے ہیں تاہم دلائل کے لیے بھی تیار ہیں۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس کیس میں درخواست گزاروں کی بنیادی استدعا کیا ہے اور کیا اسلام آباد میں کچی آبادیوں کے لیے کوئی مخصوص جگہ مختص کی گئی ہے۔ جواب میں فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ 1995 سے اب تک کی ہاؤسنگ پالیسیز میں کچی آبادیوں کو تسلیم کیا جاتا رہا ہے اور یہ کسی رعایت کی نہیں بلکہ جائز حق کی درخواست ہے۔انہوں نے کہا کہ 2001 اور 2016 کی پالیسیوں کے باوجود کچی آبادیوں کے مکینوں کو بےدخل کیا جا رہا ہے، اصل مسئلہ پالیسی پر عملدرآمد کا ہے جو عدالتی احکامات سے ہی ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں چار لاکھ سے زائد افراد کچی آبادیوں میں رہائش پذیر ہیں جبکہ ماسٹر پلان کے مطابق بڑی آبادی ان بستیوں میں رہتی ہے، اس کے باوجود 2016 کے بعد سے کوئی نئی پالیسی نہیں بنائی جا سکی اور راتوں رات آبادیاں مسمار کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ کچی آبادیاں اسلام آباد کے ماسٹر پلان کا حصہ نہیں تھیں تاہم 1995 میں انہیں تسلیم کیا گیا اور عدالتوں کے فیصلوں میں بھی ریگولرائزیشن کا ذکر موجود ہے۔سی ڈی اے کے وکیل قاسم چوہان نے عدالت کو بتایا کہ کچی آبادیوں کے نام پر الاٹ کی گئی جگہ کا بعض اوقات غلط استعمال بھی ہو رہا ہے اور ایک ہی خاندان کے کئی افراد کے لیے الگ الگ مکانات بنائے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے ریگولرائزیشن اور بے دخلی کے معاملات پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چیئرمین کی تبدیلی کے باعث پالیسی میں تاخیر ہوئی تاہم آئندہ سی ڈی اے بورڈ اجلاس میں پالیسی منظور کر لی جائے گی۔سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر پالیسی موجود ہے تو پھر اس پر عمل کیوں نہیں ہو رہا۔ عدالت نے سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ چار ہفتوں میں جامع پالیسی تیار کر کے پیش کی جائے۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت چار ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔



