
اسلام آباد۔15اپریل (محمد خالد):نیشنل لاجسٹک کارپوریشن ( این ایل سی )نے گبد بارڈرٹرمینل کو بین الاقوامی سڑکوں کے ذریعے ترسیلی نظام (ٹی آئی آر)کےلئے فعال کردیا،اس پیشرفت کی بدولت پاکستان کے علاقائی تجارتی روابط کو بذریعہ ایران فروغ حاصل ہوگا۔تفصیلات کے مطابق ایران کے ذریعے وسطی ایشیا تک رسائی روایتی افغانستان روٹ سے زیادہ مختصر، محفوظ اور جدید ہے ،ایران کے ذریعے مختصر اور مؤثر متبادل راہداری نے پاکستان کی وسطی ایشیا تک رسائی کو یقینی اور افغانستان پر انحصار ختم کر دیا ہے۔یہ سنگِ میل کراچی سے تاشقند بھیجےگئےگوشت کے کنٹینروں کی ترجیحی ہینڈلنگ اورکلیئرنس سےعبور ہوا،کسٹم کارروائی مکمل ہونے پر یہ کھیپ ٹی آئی آرفریم ورک کےتحت ایران کےراستے ازبکستان روانہ کردی گئی ہے۔این ایل سی نےچین،ایران،وسطی ایشیائی ریاستوں اوردیگرممالک تک متعدد تجارتی راہداریوں کوفعال کیا ہے،پاک ایران تجارت کوباضابطہ بنانےکےلئےاین ایل سی نے مارچ 2024 میں گبد بارڈر ٹرمینل تعمیرکیا تھا۔معاشی ماہرین کے مطابق سٹریٹجک طور پر اس پیشرفت سے چین کے بعد اب وسطی ایشیا میں برآمدات ایران کے راستے بھی بڑھائی جا سکتی ہیں،نئے روٹ سے فاصلہ کم، لاجسٹکس اخراجات میں کمی، تجارت بہتر اور افغانستان پر انحصار ختم ہو گیا ہے، یہ اقدام پاکستان کو ریجنل کنیکٹوٹی ہب بنا کر وسطی ایشیائی منڈیوں تک براہِ راست رسائی فراہم کرے گا ۔ماہرین کے مطابق گوادرپورٹ کےقریب واقع گبدرمدان راہداری مستقبل میں ایک اہم تجارتی گزرگاہ کےطورپرابھرنےکی توقع ہے۔



