
محمد خالد
واشنگٹن۔15 اپریل: ڈونلڈ ٹرمپ نے اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کو ایران کے خلاف ممکنہ جنگ میں شامل نہ ہونے کے فیصلے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جس سے عالمی سطح پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ وہ میلونی کے مؤقف سے مایوس ہیں اور انہیں توقع تھی کہ اٹلی عالمی معاملات میں زیادہ جرات کا مظاہرہ کرے گا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اطالوی عوام اس بات سے مطمئن ہوں گے کہ ان کی قیادت عالمی توانائی کے معاملات میں امریکہ کا ساتھ نہیں دے رہی۔
دوسری جانب اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے واضح کیا ہے کہ ان کی حکومت موجودہ حالات میں اٹلی کو کسی نئی جنگ کا حصہ نہیں بنانا چاہتی۔ انہوں نے زور دیا کہ جنگ مسائل کا حل نہیں بلکہ مزید پیچیدگیاں پیدا کرتی ہے، اس لیے امن اور سفارتکاری کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
میلونـی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اٹلی نے موجودہ کشیدہ صورتحال کے پیش نظر کچھ دفاعی فیصلوں پر نظرثانی کی ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں امن مذاکرات کو آگے بڑھانے اور اہم تجارتی راستوں کو کھلا رکھنے پر بھی زور دیا۔
اس سے قبل انہوں نے مذہبی رہنما پوپ فرانسس کے امن کے پیغام کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنگ کی مخالفت کرنا ایک فطری اور درست مؤقف ہے، اور دنیا کو اس وقت اتحاد اور برداشت کی ضرورت ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور یورپ کے درمیان اس نوعیت کے بیانات عالمی سیاست میں بڑھتی ہوئی رائے کی تقسیم کو ظاہر کرتے ہیں، جہاں ایک طرف سخت پالیسیوں کی بات ہو رہی ہے جبکہ دوسری جانب امن اور مذاکرات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔



