تحریر: محمد خالد
دنیا کی معیشت میں چین کا کردار دن بہ دن مضبوط ہوتا جا رہا ہے، اور حالیہ اعداد و شمار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ غیر ملکی کمپنیاں چین کی مارکیٹ پر پہلے سے کہیں زیادہ اعتماد کر رہی ہیں۔ چین کی بیرونی تجارت میں مسلسل اضافہ نہ صرف اس کی معاشی پالیسیوں کی کامیابی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ
رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں غیر ملکی کمپنیوں کی درآمدات و برآمدات کا حجم 3.47 ٹریلین یوآن تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 16.1 فیصد زیادہ ہے۔ یہ صرف ایک وقتی اضافہ نہیں بلکہ مسلسل آٹھویں سہ ماہی ہے جس میں اس شعبے میں ترقی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس تسلسل سے واضح ہوتا ہے کہ چین عالمی سرمایہ کاری کے لیے ایک مستحکم اور پرکشش مارکیٹ بن چکا ہے۔
نئی کمپنیوں کی بڑی تعداد
اعداد و شمار کے مطابق صرف تین ماہ کے عرصے میں 6200 سے زائد نئی غیر ملکی کمپنیاں چین میں رجسٹر ہوئیں، جبکہ مجموعی طور پر 69 ہزار کے قریب غیر ملکی کمپنیاں تجارت میں سرگرم ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی کاروباری برادری چین کو ایک محفوظ اور منافع بخش مارکیٹ کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
ٹیکنالوجی کے شعبے میں تیزی
چین میں خاص طور پر ہائی ٹیک سیکٹر میں نمایاں ترقی دیکھنے میں آئی ہے۔ الیکٹرانک معلومات، جدید مواد اور اعلیٰ درجے کے ساز و سامان جیسے شعبوں میں درآمدات و برآمدات میں بالترتیب 44.7 فیصد، 11.1 فیصد اور 9.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ ترقی اس بات کا اشارہ ہے کہ چین صرف روایتی صنعتوں تک محدود نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی میں بھی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
عالمی روابط کا پھیلاؤ
چین کی غیر ملکی کمپنیوں نے تقریباً 170 ممالک اور خطوں کے ساتھ تجارت میں اضافہ کیا، جن میں سے 130 سے زائد ممالک کے ساتھ ڈبل ڈیجٹ گروتھ ریکارڈ کی گئی۔ یہ وسیع تجارتی نیٹ ورک چین کو عالمی معیشت کا ایک مرکزی ستون بنا رہا ہے۔
پاکستان کے لیے سبق
چین کی اس کامیابی میں پاکستان جیسے ممالک کے لیے بھی اہم سبق موجود ہے۔ اگر ہم بھی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول پیدا کریں، پالیسیوں میں تسلسل لائیں اور ٹیکنالوجی کے شعبے پر توجہ دیں تو ہم بھی اپنی معیشت کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔
نتیجہ
چین کی بیرونی تجارت میں یہ مسلسل اضافہ عالمی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔ یہ نہ صرف چین کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ مستحکم پالیسیوں، جدید ٹیکنالوجی اور عالمی روابط کے ذریعے ترقی کی نئی راہیں کھولی جا سکتی ہیں۔



