جب سفارت کاروں کی آوازیں عالمی شور و غل اور جنگی جنون میں دبنے لگتی ہیں، تو دفاعی قیادت کی خاموش مگر ٹھوس سٹریٹجی اپنا راستہ خود بناتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے اس ہولناک بحران میں، جہاں ایک طرف سیاسی قیادت سفارتی محاذ پر سرگرم تھی، وہیں دوسری جانب پاکستان کی عسکری قیادت نے ‘ملٹری ٹو ملٹری’ (Military-to-Military) ڈپلومیسی کا ایک ایسا ماسٹر کلاس پیش کیا جس نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی کھائی میں گرنے سے بچا لیا۔ آرمی چیف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ان کی کور ٹیم نے جذبات کے بجائے خالصتاً سٹریٹجک کیلکولیشنز (Strategic Calculations) پر کام کیا۔ عسکری قیادت نے تنازعے کے عین عروج پر امریکی سینٹ کام (CENTCOM)، چینی پی ایل اے (PLA)، روسی جرنیلوں اور خلیجی ممالک کی دفاعی قیادت کے ساتھ بیک وقت ہاٹ لائنز فعال رکھیں۔ پاکستان کا پیغام دو ٹوک اور واضح تھا: تنازعے کا پھیلاؤ کسی کے حق میں نہیں اور پاکستان خطے کی سلامتی کو مزید کسی پراکسی وار کی بھینٹ نہیں چڑھنے دے گا۔ اس غیر متزلزل موقف اور براہ راست فوجی رابطوں نے متحارب فریقین کے درمیان پائے جانے والے ‘مس کیلکولیشن’ (Miscalculation) کے خطرے کو ختم کیا اور ایک خطرناک ترین فلیش پوائنٹ کو ٹھنڈا کرنے میں وہ کردار ادا کیا جو روایتی سیاستدانوں کے بس میں نہیں تھا۔
پاکستان کے اس متوازن، مضبوط اور فیصلہ کن کردار کا نتیجہ یہ نکلا کہ سوائے اسرائیل اور بھارت کے، پوری دنیا نے اسلام آباد کی بصیرت کو سراہا۔ واشنگٹن سے لے کر بیجنگ اور ریاض تک، عالمی دارالحکومتوں میں پاکستان کو خطے میں امن کے حتمی ضامن اور ایک انتہائی ذمہ دار ایٹمی طاقت کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ اس شاندار سفارتی اور عسکری کامیابی کے برعکس، نئی دہلی میں صفِ ماتم بچھی تھی۔ بھارتی اسٹیبلشمنٹ، جس نے اس جنگ کے آغاز پر خطے میں عدم استحکام اور پاکستان کے مزید معاشی دباؤ کا شکار ہونے کی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں، خود بدترین سفارتی تنہائی کا شکار ہو گئی۔ بھارت کی وہ متذبذب پالیسی، جہاں وہ بیک وقت اسرائیل کی جارحیت کی درپردہ حمایت اور عرب ممالک کو خوش کرنے کی منافقت کر رہا تھا، بری طرح بے نقاب ہو گئی، اور وہ عالمی امن کی اس پوری کوشش میں مکمل طور پر غیر متعلق (Irrelevant) ہو کر رہ گیا۔
تاہم، اس عالمی بحران کی راکھ سے پاکستان کے لیے سب سے بڑی کامیابی ایک نئے معاشی افق کا طلوع ہونا تھا۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں مسلسل کشیدگی، میزائل حملوں کے خوف اور متحدہ عرب امارات کی مارکیٹ میں آنے والے زلزلے کے بعد، عالمی شپنگ کمپنیوں اور بین الاقوامی تجارتی قافلوں کو ایک محفوظ متبادل راستے کی اشد ضرورت تھی۔ اس خلا کو گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں نے بھر دیا۔ وہ دیوہیکل کارگو اور تجارتی جہاز جو پہلے دبئی یا دیگر خلیجی بندرگاہوں کا رخ کرتے تھے، انہوں نے انشورنس کمپنیوں کے دباؤ اور سیکورٹی رسک کے پیشِ نظر اپنا رخ پاکستان کی طرف موڑ لیا۔ راتوں رات، کراچی اور گوادر کی پورٹس پر تجارتی سرگرمیوں، ٹرانزٹ ٹریڈ اور کارگو ہینڈلنگ میں وہ غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی نظیر پچھلی کئی دہائیوں میں نہیں ملتی۔ چین کے لیے گوادر کا راستہ مزید ناگزیر ہو گیا، اور وسط ایشیائی ریاستوں نے بھی اپنی بلاتعطل برآمدات کے لیے پاکستان کی بندرگاہوں پر انحصار کئی گنا بڑھا دیا۔ تباہی کے اس عالمی بادل نے پاکستان کے لیے محفوظ اور نئے عالمی تجارتی راستوں کے وہ دروازے کھول دیے، جس نے ملک کو معاشی بحالی اور خود مختاری کے ایک ایسے ٹریک پر ڈال دیا جس کا چند ماہ قبل تک محض خواب ہی دیکھا جا سکتا تھا۔

تحریر: عابد محمود مغل
(جاری ہے)



