جب مشرقِ وسطیٰ میں بارود کی بو اور عالمی منڈیوں میں کریش کی گرد ابھی چھٹی نہیں تھی، تو جنگ کا اصل محاذ میدانِ جنگ سے نکل کر سفارتی راہداریوں میں منتقل ہو چکا تھا۔ دنیا کو ایک وسیع تر تباہی سے واپس لانے کے لیے ایک بے مثال ‘سفارتی میراتھن’ (Diplomatic Marathon) کا آغاز ہوا، جس کا مرکز اور محور پاکستان، چین اور روس کی مشترکہ کاوشیں تھیں۔ اسلام آباد کو بخوبی اندازہ تھا کہ اگر یہ جنگ خطے میں مزید پھیلی، تو اس کے معاشی، سٹریٹجک اور جغرافیائی اثرات پورے جنوبی ایشیا کے لیے تباہ کن ہوں گے۔
اس سفارتی مہم کے دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے پاکستانی قیادت کے اعصابی دباؤ اور عزم کو واضح کیا۔ جنگ کو روکنے کی کوششوں کے سلسلے میں اسلام آباد میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کا ایک اہم مشاورتی اجلاس (Quadrilateral Summit) ہو رہا تھا۔ اسی تقریب میں اپنے مصری ہم منصب (بدر عبدالعاطی) کو سٹیج پر بلانے کے لیے جاتے ہوئے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا پاؤں پھسلا اور وہ گر پڑے۔ میڈیکل رپورٹس کے مطابق اس حادثے میں ان کے کندھے میں ‘ہیئر لائن فریکچر’ (Hairline Fracture) آ گیا۔ تاہم، سفارتی تاریخ کے اس کڑے وقت میں انہوں نے پین کلرز (Painkillers) کے سہارے بغیر کسی تعطل کے دن بھر کی تمام اہم میٹنگز مکمل کیں۔
اپنے کندھے کے فریکچر اور ڈاکٹروں کے سختی سے آرام کے مشورے کے باوجود، اسحاق ڈار نے کوئی وقفہ نہیں لیا اور وہ اسلام آباد کے اجلاس کے فوراً بعد سیدھے بیجنگ پہنچ گئے۔ میڈیا اور سرکاری رپورٹس کے مطابق، جب وہ اس زخمی حالت میں چین پہنچے تو چین کے وزیر خارجہ ‘وانگ یی’ (Wang Yi) نے سفارتی پروٹوکولز سے ہٹ کر ان کی اس حالت پر خاص ہمدردی کا اظہار کیا۔ چینی ماہرینِ طب کی خصوصی ٹیم نے ان کا معائنہ کیا اور آرام کا مشورہ دیا، جس پر چینی وزیر خارجہ نے بھی زور دیا، لیکن امن کی بحالی کی قیمت اس قدر بھاری تھی کہ آرام ممکن نہ تھا۔ اسی تاریخی دورے کے دوران پاکستان اور چین نے مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک مشترکہ “5 نکاتی امن فارمولا” (5-Point Peace Proposal) پیش کیا، جس میں فوری جنگ بندی، امن مذاکرات کا آغاز، غیر فوجی اہداف کی حفاظت اور عالمی تجارتی گزرگاہوں (آبنائے ہرمز کی شپنگ لینز) کا تحفظ شامل تھا۔
اسی سفارتی بھاگ دوڑ کے دوران، عالمی بساط پر چین اور روس نے اپنا پس پردہ (Hidden Pressure) دباؤ خطرناک حد تک بڑھانا شروع کر دیا۔ روس نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اثاثوں کو الرٹ کر کے اور ایران کی پشت پناہی کر کے امریکہ اور اسرائیل کو سخت پیغام دیا۔ لیکن اس پوری صورتحال کا رخ موڑنے والی سب سے فیصلہ کن ‘براہ راست انٹری’ چین کی تھی۔ چین نے واشنگٹن کو دو ٹوک متنبہ کیا کہ خطے میں تیل کی ترسیل کے راستوں پر کارروائی گلوبل سپلائی چین کے لیے ‘ریڈ لائن’ ہے۔ چینی قیادت نے مداخلت کرتے ہوئے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کیا، جس کی تصدیق خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے بیانات اور ٹویٹس میں کی اور جسے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی سراہا۔ یہ پاکستان کی شٹل اور گراؤنڈ ڈپلومیسی، اور چین کا معاشی و سفارتی گھیراؤ ہی تھا جس نے بالآخر مغرب کو جنگ بندی کی میز کی طرف دیکھنے پر مجبور کر دیا۔
تحریر: عابد محمود مغل
(جاری ہے)



