مشرقِ وسطیٰ میں گرنے والے میزائلوں کی گونج صرف صحراؤں تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس کے جھٹکوں نے وال سٹریٹ سے لے کر ٹوکیو تک عالمی مالیاتی منڈیوں کی بنیادیں ہلا دیں۔ 28 فروری کی جارحیت کے بعد، جب جنگ کے بادل گہرے ہوئے، تو دنیا کو ایک بے رحم معاشی حقیقت کا سامنا کرنا پڑا۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کا 20 فیصد سے زائد تیل گزرتا ہے، پر منڈلاتے خطرات نے گلوبل سپلائی چین کا گلا گھونٹ دیا۔ محض 48 گھنٹوں کے اندر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں نے خوفناک اڑان بھری، جس نے شپنگ اور کارگو کے اخراجات کو آسمان پر پہنچا دیا۔ اس تعطل نے پوری دنیا میں مہنگائی (Inflation) کا ایک نیا طوفان برپا کر دیا، اشیائے خوردونوش سے لے کر ٹیکنالوجی تک، ہر چیز کی قیمتیں راتوں رات بڑھ گئیں۔
اس معاشی زلزلے کا سب سے فوری اور تباہ کن اثر مشرقِ وسطیٰ کے فنانشل ہب، متحدہ عرب امارات پر پڑا۔ غیر یقینی صورتحال کے باعث دبئی اور ابوظہبی کی سٹاک مارکیٹس میں شدید پینک سیلنگ (Panic Selling) شروع ہو گئی، اور مارکیٹ تقریباً کریش کر گئی۔ اربوں ڈالر کا سرمایہ چند گھنٹوں میں ڈوب گیا اور غیر ملکی سرمایہ کاروں نے اپنا پیسہ نکالنا شروع کر دیا۔ اس شدید اندرونی معاشی دباؤ اور مغربی اتحادیوں کے تقاضوں کے پیشِ نظر، یو اے ای کی حکومت نے ایک غیر معمولی اور تلخ فیصلہ کرتے ہوئے اپنے بینکوں میں موجود ایرانی اثاثے منجمد (Freeze) کر دیے، جس نے خطے کے جیو پولیٹیکل منظر نامے کو مزید پیچیدہ کر دیا۔
دوسری جانب، امریکہ، جس کی قیادت نے اس آگ کو بھڑکایا تھا، خود اندرونی طور پر بری طرح تقسیم ہو چکا تھا۔ واشنگٹن کی سڑکوں پر وہ روایتی ‘نیشنلزم’ غائب تھا جو عموماً جنگوں کے آغاز میں دیکھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، امریکی معاشرے میں جنگ کے خلاف ایک بے مثال عوامی اور سیاسی ردعمل سامنے آیا۔ امریکی عوام، جو پہلے ہی اندرونی افراطِ زر اور معاشی مسائل سے نالاں تھے، کسی صورت ایک اور مہنگی اور نہ ختم ہونے والی جنگ کا بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں تھے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس جارحانہ پالیسی پر نہ صرف ڈیموکریٹس بلکہ ان کی اپنی ریپبلکن پارٹی کے اندر سے بھی شدید تنقید کے تیر برسنے لگے۔
اس داخلی مخالفت کی سب سے توانا اور حیران کن آواز جے ڈی وینس (JD Vance) کی صورت میں ابھری۔ انہوں نے اس جنگی مہم کی کھلم کھلا مخالفت کرتے ہوئے یہ بیانیہ اپنایا کہ یہ تنازعہ امریکی ورکنگ کلاس کے مفاد میں نہیں ہے اور امریکہ مزید عالمی جنگوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ان کی آواز نے اس سائلنٹ میجارٹی (Silent Majority) کو زبان دے دی جو تیل کی بڑھتی قیمتوں اور ممکنہ جانی نقصان کے خوف میں مبتلا تھی۔ امریکی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ جنگ کے عین آغاز میں ہی صدر کو اپنے گھر کے اندر اتنی بڑی عوامی اور سیاسی بغاوت کا سامنا تھا، جس نے عالمی سطح پر امریکی جنگی مشینری کے اعتماد کو گہرا دھچکا لگایا۔ دنیا دیکھ رہی تھی کہ تباہی بانٹنے والا ملک خود اپنے ہی معاشی اور معاشرتی بوجھ تلے دب رہا تھا۔
تحریر: عابد محمود مغل
(جاری ہے)



