28 فروری 2026 کی صبح مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک ایسی ہولناک بیداری لائی جس نے عالمی تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ یہ وہ دن تھا جب امریکہ اور اسرائیل نے “آپریشن ایپک فیوری” (Operation Epic Fury) کے نام سے ایران پر ایک بے مثال اور انتہائی جارحانہ فوجی مہم کا آغاز کیا۔ محض ابتدائی 12 گھنٹوں کے دوران 900 سے زائد فضائی اور میزائل حملے کیے گئے، جن کا ہدف ایران کی جوہری تنصیبات، ایئر ڈیفنس سسٹم، فوجی انفراسٹرکچر اور اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت تھی۔ اس جارحیت کا سب سے بڑا اور چونکا دینے والا واقعہ تہران میں ہونے والا وہ ٹارگٹڈ حملہ تھا جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے کئی اعلیٰ کمانڈرز شہید ہو گئے۔ واشنگٹن اور تل ابیب کا سٹریٹجک اندازہ یہ تھا کہ اس ‘ڈیکیپی ٹیشن سٹرائیک’ (Decapitation Strike) کے بعد ایرانی نظام مکمل طور پر مفلوج ہو جائے گا اور حکومت ریت کی دیوار ثابت ہوگی۔
تاہم، زمینی حقائق نے ان مغربی اندازوں کو یکسر غلط ثابت کر دیا۔ سپریم لیڈر کی شہادت اور فیصلہ ساز اداروں (جیسے کہ اسمبلی آف ایکسپرٹس کی عمارت) کی تباہی کے باوجود، ایرانی قیادت اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم نے غیر متوقع ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ قیادت کے اس بڑے نقصان کے باوجود اقتدار کا خلا فوری طور پر پر کیا گیا اور عبوری لیڈرشپ کونسل نے ریاستی معاملات کو سنبھال لیا۔ نظام کے بکھرنے کے بجائے، ایران کے ملٹری نیٹ ورک نے بقا کی جنگ لڑتے ہوئے ایک منظم اور شدید جوابی کارروائی کا آغاز کیا، جس نے ثابت کیا کہ مزاحمت کا عزم محض ایک فردِ واحد تک محدود نہیں تھا۔
ایران کا جوابی حملہ محض غصے کا اظہار نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی ملٹری سٹریٹجی کا حصہ تھا۔ ایران نے 400 سے زائد بیلسٹک میزائلوں اور مسلح ڈرونز کا ایک بڑا فلیٹ براہ راست اسرائیل اور خلیجی ممالک (بشمول سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، کویت اور اردن) میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی طرف فائر کیا۔ اگر اس جوابی کارروائی کا غیر جذباتی اور حقیقت پسندانہ عسکری تجزیہ کیا جائے، تو مستند اعداد و شمار مغربی دفاعی شیلڈز کے مکمل طور پر ناقابلِ تسخیر ہونے کے دعووں کی نفی کرتے ہیں۔ اگرچہ اسرائیل کے کثیر الجہتی ایئر ڈیفنس سسٹم نے میزائلوں کی ایک بڑی تعداد کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، لیکن حملوں کی غیر معمولی شدت اور تسلسل نے کئی مقامات پر دفاعی حصار کو توڑ دیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں اسرائیل میں کم از کم 13 فوجی اور 27 شہری ہلاک ہوئے، جبکہ 7,000 سے زائد افراد زخمی ہوئے، اور کئی ملٹری تنصیبات کو نقصان پہنچا۔
دوسری جانب، خطے میں موجود امریکی فوجی طاقت کو بھی دہائیوں بعد سب سے بڑے براہ راست چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکی حکام اور مصدقہ رپورٹس کے مطابق، ایرانی میزائلوں نے مشرقِ وسطیٰ میں کم از کم 17 امریکی فوجی تنصیبات پر کامیاب سٹرائیکس کیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں 15 امریکی فوجی اہلکار ہلاک اور 538 کے قریب زخمی ہوئے۔ فوجی اڈوں کے رن ویز، مواصلاتی مراکز اور ہینگرز کو پہنچنے والے اس نقصان نے جغرافیائی و عسکری حقائق کو تبدیل کر دیا۔ 28 فروری کی اس خونی شب نے دنیا پر یہ واضح کر دیا کہ یکطرفہ اور بغیر نتائج کی جنگوں کا دور ختم ہو چکا ہے، اور اب یہ خطہ ایک ایسی تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے جس کے شعلے پوری عالمی معیشت اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لینے کے لیے تیار ہیں۔
تحریر: عابد محمود مغل
(جاری ہے)



