مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 17°C
اتوار، 25 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 310.12 GBP/PKR 370.24 سونا/تولہ (عالمی) 414,909 PKR Bitcoin $80,601 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 310.12 GBP/PKR 370.24 سونا/تولہ (عالمی) 414,909 PKR Bitcoin $80,601
رائے و تجزیہ

تیز رفتار زندگی اور سکونِ قلب کی تلاش

📅 ✍️ ⏱ 15 منٹ
تیز رفتار زندگی اور سکونِ قلب کی تلاش
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

از قلم: محمد خالد

آج کا انسان شاید تاریخ کے اس مقام پر کھڑا ہے جہاں اس کے پاس زندگی کو آسان بنانے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ سہولتیں، ذرائع، معلومات اور ٹیکنالوجی موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود سکون کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے پاس تیز رفتار انٹرنیٹ ہے، چند سیکنڈ میں دنیا کے کسی بھی کونے سے رابطہ ممکن ہے، موبائل فون میں پوری دنیا سمٹ آئی ہے، سفر پہلے کے مقابلے میں آسان ہے، گھر بیٹھے خریداری کی سہولت موجود ہے اور چند کلکس میں بینکنگ سے لے کر کاروبار تک کے کام مکمل ہو جاتے ہیں، مگر ایک سوال مسلسل ہمارے سامنے کھڑا ہے: اگر زندگی اتنی آسان ہو گئی ہے تو انسان اتنا بے چین کیوں ہے؟

ہماری زندگی آج ایک ایسی تیز رفتار ریل گاڑی بن چکی ہے جس کی رفتار مسلسل بڑھ رہی ہے، مگر مسافر کو خود معلوم نہیں کہ اسے اترنا کہاں ہے۔ صبح آنکھ کھلتے ہی موبائل فون ہاتھ میں آ جاتا ہے۔ رات سونے سے پہلے بھی آخری نظر اسی اسکرین پر پڑتی ہے۔ درمیان کا پورا دن ملازمت، کاروبار، مہنگائی، معاشی دباؤ، بچوں کی تعلیم، مستقبل کی فکر، سماجی توقعات اور کامیابی کی دوڑ میں گزر جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انسان زندگی گزار نہیں رہا بلکہ زندگی کو مسلسل Manage کر رہا ہے۔

ہماری سب سے بڑی مشکل شاید یہ نہیں کہ ہمارے پاس وقت کم ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے وقت کی ترجیحات بدل دی ہیں۔ ہم ہر وقت مصروف رہنا کامیابی سمجھنے لگے ہیں۔ اگر کوئی شخص مسلسل کام میں مصروف ہے، فون پر موجود ہے، سوشل میڈیا پر فعال ہے اور ہر پیغام کا فوراً جواب دے رہا ہے تو اسے انتہائی متحرک اور کامیاب سمجھا جاتا ہے۔ لیکن کبھی ہم نے یہ سوال نہیں کیا کہ اس مسلسل مصروفیت کے اندر انسان خود کہاں موجود ہے؟

جدید ٹیکنالوجی یقیناً انسانی تاریخ کی عظیم ترین کامیابیوں میں سے ایک ہے۔ اس نے تعلیم، صحت، کاروبار، صحافت، مواصلات اور تحقیق کے میدان میں انقلاب برپا کیا ہے۔ مسئلہ ٹیکنالوجی خود نہیں، بلکہ اس کا غیر متوازن استعمال ہے۔ ایک ایسا آلہ جو ہمیں دنیا سے جوڑنے کے لیے بنایا گیا تھا، وہ بعض اوقات ہمیں اپنے قریب ترین لوگوں سے دور کرنے لگتا ہے۔

آج ایک شخص ہزاروں میل دور بیٹھے کسی دوست سے ویڈیو کال پر بات کر سکتا ہے، لیکن اسی گھر میں بیٹھے اپنے والدین، بیوی، بچوں یا بہن بھائیوں سے چند منٹ کی توجہ سے گفتگو کرنا اسے مشکل محسوس ہوتی ہے۔ کھانے کی میز پر موبائل موجود ہے، چائے کے دوران موبائل موجود ہے، گاڑی میں موبائل موجود ہے، حتیٰ کہ بعض اوقات عبادت، مطالعے اور آرام کے لمحات بھی مسلسل Notifications کی زد میں رہتے ہیں۔

یہ عجیب تضاد ہے کہ ہم Digitally Connected ہونے کے باوجود بعض اوقات جذباتی طور پر انتہائی تنہا محسوس کرتے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کی 2025 میں جاری ہونے والی Commission on Social Connection کی رپورٹ نے بھی اسی مسئلے کی سنگینی کی طرف توجہ دلائی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ہر چھٹا شخص تنہائی کا تجربہ کرتا ہے، جبکہ مضبوط سماجی تعلقات بہتر صحت، ذہنی بہبود اور طویل زندگی سے منسلک ہیں۔ WHO نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جدید ڈیجیٹل ماحول، خاص طور پر منفی آن لائن تعاملات اور ضرورت سے زیادہ اسکرین استعمال، بعض افراد کے لیے سماجی تعلق اور ذہنی بہبود کے مسائل کو مزید پیچیدہ کر سکتے ہیں۔

یہ اعداد و شمار ہمیں رک کر سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔

ہم نے شاید تنہائی کی تعریف ہی بدل دی ہے۔ پہلے تنہائی کا مطلب یہ سمجھا جاتا تھا کہ انسان کے اردگرد کوئی نہیں، لیکن آج انسان سینکڑوں یا ہزاروں Online Contacts کے باوجود اندر سے تنہا ہو سکتا ہے۔ اس کے موبائل میں سینکڑوں نمبرز، سوشل میڈیا پر ہزاروں Followers اور مختلف گروپس میں بے شمار لوگ موجود ہوتے ہیں، مگر جب اسے واقعی کسی کے ساتھ دل کی بات کرنے کی ضرورت پڑتی ہے تو شاید اسے ایک ایسے شخص کی تلاش ہوتی ہے جو صرف اس کی بات سن لے۔

رابطوں کی تعداد اور تعلق کی گہرائی ایک چیز نہیں۔

یہی فرق ہمیں سمجھنا ہوگا۔

ہماری زندگی میں ایک اور خاموش تبدیلی بھی آ چکی ہے۔ ہم نے کامیابی کا معیار بھی بدل دیا ہے۔ ایک وقت تھا جب کامیاب زندگی کا مطلب ایک پرسکون گھر، عزت، صحت، اچھے تعلقات اور باوقار زندگی سمجھا جاتا تھا۔ آج کامیابی کا پیمانہ اکثر گاڑی، گھر، عہدہ، لباس، برانڈ، بینک بیلنس، سوشل میڈیا کی مقبولیت اور دوسروں سے آگے نکل جانے کی صلاحیت بن چکا ہے۔

مسئلہ دولت کمانا نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ دولت زندگی کا ذریعہ ہونے کے بجائے زندگی کا مقصد بن جائے۔

انسان زیادہ کمانا چاہتا ہے تاکہ بہتر زندگی گزار سکے، لیکن بہتر زندگی کی تلاش میں وہ اتنا زیادہ کام کرنے لگتا ہے کہ زندگی گزارنے کا وقت ہی نہیں بچتا۔ وہ بڑے گھر کے لیے زیادہ محنت کرتا ہے، مگر گھر والوں کے ساتھ بیٹھنے کا وقت کھو دیتا ہے۔ وہ بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے دن رات کام کرتا ہے، مگر بچوں کا موجودہ بچپن اس کی آنکھوں کے سامنے گزر جاتا ہے۔ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد سکون کی منصوبہ بندی کرتا ہے، لیکن یہ نہیں سوچتا کہ شاید سکون کے لیے کچھ وقت آج بھی نکالنا ضروری ہے۔

یہی جدید زندگی کا سب سے بڑا المیہ ہے۔

ہم مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے حال قربان کرتے رہتے ہیں۔

اور پھر ایک دن پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مستقبل تو آ گیا، مگر وہ وقت جسے ہم نے قربان کیا تھا، واپس نہیں آیا۔

ہمارے بزرگ اکثر کہا کرتے تھے کہ سکون پیسے سے نہیں، دل سے ملتا ہے۔ اس وقت شاید ہمیں یہ باتیں سادہ اور پرانی محسوس ہوتی تھیں، لیکن آج کی تیز رفتار دنیا میں ان الفاظ کی معنویت مزید بڑھ گئی ہے۔ انسان نے سہولتیں حاصل کر لیں، مگر اطمینان کھو دیا؛ اس نے معلومات حاصل کر لیں، مگر حکمت کم ہوتی گئی؛ اس نے رابطے بڑھا لیے، مگر تعلقات کمزور پڑ گئے۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ذہنی سکون کا تعلق صرف خاموشی سے نہیں بلکہ معنی خیز زندگی سے ہے۔ اگر انسان کے پاس مقصد نہ ہو، اپنے لوگوں سے تعلق نہ ہو، جسمانی سرگرمی نہ ہو، نیند پوری نہ ہو، مسلسل معاشی خوف ہو اور ہر وقت دوسروں سے اپنا موازنہ کرتا رہے تو صرف چند گھنٹے خاموش بیٹھ جانا کافی نہیں ہوگا۔

سکون ایک مکمل طرزِ زندگی کا نام ہے۔

اس کے لیے ہمیں اپنے دن میں ایسے لمحات پیدا کرنا ہوں گے جہاں ہم صرف موجود ہوں۔ نہ کوئی Notification، نہ کوئی Email، نہ کوئی Social Media Feed اور نہ ہی دوسروں کی زندگی سے اپنا موازنہ۔

کبھی صبح خاموشی سے چائے پینا بھی ضروری ہے۔

کبھی اپنے بچے کی بات مکمل سننا بھی ضروری ہے۔

کبھی والدین کے پاس بیٹھنا بھی ضروری ہے۔

کبھی دوست کو صرف خیریت پوچھنے کے لیے فون کرنا بھی ضروری ہے۔

کبھی کسی پارک میں پیدل چلنا، کتاب پڑھنا، قدرت کو دیکھنا یا چند لمحے خاموش رہنا بھی ضروری ہے۔

WHO کی رپورٹ بھی سماجی تعلق مضبوط کرنے کے لیے انتہائی سادہ انسانی رویوں کی طرف توجہ دلاتی ہے، جن میں کسی ضرورت مند دوست سے رابطہ کرنا، گفتگو کے دوران موبائل ایک طرف رکھنا، پڑوسی کو سلام کرنا، کسی اجتماعی سرگرمی میں شامل ہونا اور رضاکارانہ کام کرنا شامل ہیں۔

یہ کام بظاہر معمولی ہیں، لیکن زندگی کی اصل خوبصورتی اکثر انہی معمولی لمحوں میں چھپی ہوتی ہے۔

ہمیں اپنی زندگی میں Digital Boundaries بھی قائم کرنا ہوں گی۔ ہر Notification کا فوری جواب ضروری نہیں۔ ہر خبر جاننا ضروری نہیں۔ ہر بحث میں شامل ہونا ضروری نہیں۔ ہر شخص کی زندگی دیکھنا ضروری نہیں۔ سوشل میڈیا پر نظر آنے والی چمک دمک حقیقت کا مکمل عکس نہیں ہوتی۔

ہم اکثر دوسروں کی زندگی کا بہترین حصہ دیکھ کر اپنی پوری زندگی سے اس کا موازنہ کرنے لگتے ہیں۔

یہ موازنہ انسان کے اندر ایک ایسی بے چینی پیدا کرتا ہے جس کا کوئی اختتام نہیں۔ کسی کے پاس ہم سے بڑی گاڑی ہے، کسی کا گھر بڑا ہے، کسی کی بیرون ملک تصویر ہے، کسی کا کاروبار زیادہ کامیاب نظر آتا ہے اور کسی کے سوشل میڈیا پر زیادہ Followers ہیں۔ انسان ایک دوڑ میں شامل ہو جاتا ہے جس میں Finish Line ہی موجود نہیں۔

اس لیے ضروری ہے کہ ہم کبھی خود سے پوچھیں:

میں کس کے ساتھ مقابلہ کر رہا ہوں؟

میں کتنا حاصل کرنا چاہتا ہوں؟

اور اس سب کے بعد کیا میں واقعی خوش ہوں گا؟

شاید ان سوالات کے جواب ہمیں اپنے اندر تلاش کرنا ہوں گے۔

زندگی کا مقصد صرف زیادہ حاصل کرنا نہیں بلکہ جو حاصل ہے اسے محسوس کرنا بھی ہے۔

ایک صحت مند جسم، ایک پرسکون گھر، چند مخلص دوست، والدین کی دعا، بچوں کی ہنسی، شریکِ حیات کی رفاقت، رزق میں برکت، کسی ضرورت مند کی مدد اور رات کو اطمینان کے ساتھ سو جانا—یہ سب ایسی دولتیں ہیں جن کی قیمت کسی بینک اکاؤنٹ میں نہیں لگائی جا سکتی۔

ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ زندگی ہمیشہ ہماری مرضی کے مطابق نہیں چلتی۔ معاشی مشکلات، پیشہ ورانہ دباؤ، خاندانی ذمہ داریاں اور مستقبل کی فکریں اپنی جگہ حقیقت ہیں۔ ہر شخص کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنی مصروفیات ختم کر دے یا دنیا سے الگ ہو جائے۔ اصل ضرورت دنیا چھوڑنے کی نہیں بلکہ دنیا کے اندر رہتے ہوئے توازن پیدا کرنے کی ہے۔

کام کریں، لیکن کام کو پوری زندگی نہ بنائیں۔

پیسہ کمائیں، لیکن پیسے کو اپنی شناخت نہ بنائیں۔

ٹیکنالوجی استعمال کریں، لیکن ٹیکنالوجی کو اپنا مالک نہ بننے دیں۔

سوشل میڈیا استعمال کریں، لیکن اپنی اصل زندگی کو سوشل میڈیا کے مقابلے میں کم تر نہ سمجھیں۔

مستقبل کے لیے منصوبہ بنائیں، لیکن آج کے دن کو ضائع نہ کریں۔

اور سب سے بڑھ کر، اپنے لوگوں کے لیے وقت نکالیں۔

کیونکہ انسان کی زندگی میں بعض چیزیں ایسی ہیں جو بعد میں خریدی نہیں جا سکتیں۔ گزرے ہوئے بچپن کا وقت واپس نہیں آتا، جوانی واپس نہیں آتی، والدین کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات واپس نہیں آتے، اور بعض رشتے اگر مسلسل نظر انداز کیے جائیں تو صرف ایک دن اچانک یہ احساس ہوتا ہے کہ فاصلے بہت بڑھ چکے ہیں۔

اسی لیے شاید ہمیں اپنی زندگی کی رفتار مکمل طور پر روکنے کی ضرورت نہیں، صرف اسے درست سمت میں لانے کی ضرورت ہے۔

ہمیں ہر روز کچھ وقت اپنے لیے، کچھ وقت اپنے خاندان کے لیے، کچھ وقت جسمانی صحت کے لیے، کچھ وقت روحانی وابستگی کے لیے اور کچھ وقت ان لوگوں کے لیے نکالنا چاہیے جو ہماری زندگی میں واقعی اہم ہیں۔

سکون کوئی ایسی منزل نہیں جس تک پہنچنے کے بعد زندگی کے تمام مسائل ختم ہو جائیں۔ سکون دراصل انسان کا وہ اندرونی توازن ہے جس میں وہ مشکلات کے باوجود اپنے آپ کو مکمل طور پر ٹوٹنے نہیں دیتا۔

شاید اصل کامیابی یہ نہیں کہ ہمارے پاس دنیا کی ہر آسائش موجود ہو۔

اصل کامیابی یہ ہے کہ آسائشوں کے درمیان بھی ہمارا دل زندہ رہے۔

ہماری مصروفیت اتنی نہ بڑھے کہ ہمیں اپنے بچوں کی آواز سنائی نہ دے۔

ہماری دولت اتنی اہم نہ ہو جائے کہ ہمیں اپنے رشتوں کی قدر بھول جائے۔

ہماری شہرت اتنی بڑی نہ ہو جائے کہ ہم اپنے اصل وجود سے ہی دور ہو جائیں۔

اور ہماری ڈیجیٹل دنیا اتنی وسیع نہ ہو جائے کہ ہمارے گھر کی حقیقی دنیا ہمارے لیے چھوٹی پڑ جائے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم چند لمحوں کے لیے رکیں، اپنے موبائل کی اسکرین بند کریں، اپنے اردگرد دیکھیں اور خود سے ایک سوال کریں:

کیا میں واقعی زندگی گزار رہا ہوں، یا صرف زندگی کے کام مکمل کر رہا ہوں؟

اگر جواب ہمیں مطمئن نہیں کرتا تو تبدیلی کے لیے کسی بڑے دن کا انتظار نہ کریں۔

آج ہی سے آغاز کریں۔

ایک کھانا موبائل کے بغیر کھائیں۔

ایک دوست سے دل کی بات کریں۔

والدین کے پاس بیٹھیں۔

اپنے بچے کو پوری توجہ سے سنیں۔

کچھ دیر قدرت کے قریب جائیں۔

اپنے خالق کے حضور چند لمحے گزاریں۔

اور رات کو سونے سے پہلے اپنے آپ سے کہیں کہ آج میں نے صرف کام نہیں کیا، بلکہ زندگی بھی محسوس کی ہے۔

کیونکہ آخرکار زندگی کی قدر اس بات سے نہیں ہوتی کہ ہم نے کتنے سال گزارے، کتنی دولت جمع کی یا کتنی شہرت حاصل کی؛ اصل سوال یہ ہے کہ ان برسوں میں ہم نے کتنا جیا، کتنے دلوں کو سکون دیا اور خود اپنے دل کو کتنا سکون دیا۔

دنیا کی رفتار شاید کم نہ ہو۔

موبائل فون، انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی بھی ہماری زندگی سے ختم نہیں ہوں گے۔

مسابقت بھی جاری رہے گی، معاشی جدوجہد بھی رہے گی اور ذمہ داریاں بھی اپنی جگہ موجود رہیں گی۔

لیکن اس سب کے درمیان ہمیں اپنے اندر ایک ایسی جگہ ضرور بنانی ہوگی جہاں دنیا کا شور داخل نہ ہو سکے۔

وہ جگہ ہمارا دل ہے۔

اور شاید سکونِ قلب کی اصل تلاش بھی یہی ہے کہ انسان دنیا جیتنے کی کوشش میں خود کو نہ ہار دے۔

زندگی تیز ضرور چل رہی ہے، مگر ہمیں ہر لمحہ دوڑنا ضروری نہیں۔ کبھی رک کر سانس لینا بھی زندگی کا حصہ ہے۔

آئیے، رفتار کے اس بے رحم دور میں تھوڑا سا ٹھہریں، اپنے لوگوں کی طرف واپس لوٹیں، اپنے اندر جھانکیں اور زندگی کو صرف گزارنے کے بجائے اسے محسوس کرنا سیکھیں۔

— محمد خالد

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
ٹیگز: #international
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں