مولانا فضل الرحمن کا بجٹ پر شدید تنقید، معیشت
اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے وفاقی بجٹ 2026-25 پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ معاشی پالیسیوں نے عوامی مشکلات کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے قومی اسمبلی میں بجٹ بحث کے دوران حکومت کی اقتصادی ترجیحات، عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے اثر و رسوخ، ملک میں امن و امان کی خراب صورتحال اور پارلیمانی خودمختاری سے متعلق اہم سوالات اٹھائے۔
بجٹ پر عوامی عدم اطمینان اور معاشی صورتحال
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہر حکومت اپنے پیش کردہ بجٹ کو معیشت کے لیے مثبت قرار دیتی ہے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ ان کے بقول، ملک میں بجٹ کے حوالے سے عوامی سطح پر اطمینان کا فقدان پایا جاتا ہے اور مختلف شعبے اس پر تنقید کر رہے ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت عوامی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہی ہے۔
آئی ایم ایف کا کردار اور اقتصادی خودمختاری
سربراہ جے یو آئی (ف) نے آئی ایم ایف کے کردار پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بجٹ بیرونی دباؤ کے تحت تیار کیا جائے تو ملک کی معاشی خودمختاری پر سوالات اٹھتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ کو تمام فیصلوں کا اصل مرکز ہونا چاہیے نہ کہ بیرونی مالیاتی اداروں کی شرائط کے تحت قانون سازی اور بجٹ سازی کی جائے۔
امن و امان کی صورتحال اور معاشی ترقی
مولانا فضل الرحمن نے امن و امان کو معاشی بحالی کے لیے بنیادی شرط قرار دیا۔ انہوں نے خصوصاً خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بدامنی، بھتہ خوری اور حکومتی رٹ کی کمزوری کو ملک کی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب شہری، تاجر اور سرمایہ کار خود کو محفوظ محسوس نہیں کریں گے تو معاشی ترقی کے دعوے عملی شکل اختیار نہیں کر سکتے۔
پارلیمانی روایات اور اظہار رائے کی آزادی
انہوں نے قومی اسمبلی کی کارروائی اور اپوزیشن کی آواز کو دبانے سے متعلق بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اگر اراکین اسمبلی کی تقاریر کے دوران آواز کو دبایا جائے یا نشریات کو محدود کیا جائے تو یہ پارلیمانی روایات کے منافی ہے۔ انہوں نے اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ ایوان میں تمام منتخب نمائندوں کو اپنی بات مکمل طور پر رکھنے کا حق دیا جائے۔
اس کے علاوہ، انہوں نے خطے کی صورتحال، ایران اسرائیل کشیدگی، فلسطین اور پاک بھارت تعلقات پر بھی بات کی اور کہا کہ پاکستان کو داخلی استحکام کے ساتھ ساتھ عالم اسلام کے مسائل پر بھی واضح اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔
