وفاقی بجٹ پر پی ٹی آئی کا شدید ردعمل، غریب دشمن قرار
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے وفاقی بجٹ 2026-27 پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ وفاقی بجٹ دو سالہ انتھک محنت کا نتیجہ ہے، تاہم پی ٹی آئی قیادت کا کہنا ہے کہ یہ بجٹ معاشی اصلاحات کے بجائے غریب عوام کو کچلنے اور بااثر اشرافیہ کو نوازنے کی ایک منظم کوشش ہے۔ پارٹی کے مرکزی رہنماؤں نے اسلام آباد میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس اور بیانات کے ذریعے حکومت کی معاشی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔
بجٹ غریب دشمن اور اشرافیہ نواز ہے: اپوزیشن رہنما
اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان، سینیٹر شبلی فراز اور سلیمان اکرم راجہ سمیت دیگر سینئر رہنماؤں نے بجٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے بجائے پہلے سے ٹیکس دینے والے تنخواہ دار طبقے اور چھوٹے تاجروں پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔ ان کا موقف تھا کہ موجودہ بجٹ میں مہنگائی کو کنٹرول کرنے یا روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کا کوئی واضح روڈ میپ موجود نہیں ہے، جس سے عام شہری کی زندگی مزید اجیرن ہو جائے گی۔
ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی اور آئی ایم ایف کے سخت اہداف
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق پاکستان کا 18.77 ٹریلین روپے کا یہ بجٹ بنیادی طور پر آئی ایم ایف کے سخت ترین پروگرام کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس بجٹ کی تفصیلات ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق دفاعی اخراجات اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کو اولیت دینے کی عکاس ہیں جبکہ غریب طبقے کی فلاح و بہبود کے لیے ترقیاتی بجٹ کو انتہائی محدود رکھا گیا ہے۔ پی ٹی آئی نے اس معاشی ڈھانچے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔
سیاسی و معاشی عدم استحکام کی نئی لہر کا خدشہ
سیاسی مبصرین کے مطابق، پی ٹی آئی اس بجٹ کے خلاف پارلیمان کے اندر اور باہر بھرپور احتجاجی مہم چلانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اگرچہ حال ہی میں وزیراعظم شہباز شریف کا اپوزیشن کو مذاکرات اور قومی چارٹر کی پیشکش کا بیان سامنے آیا تھا، لیکن پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ بجٹ کی بحث کو محض اعداد و شمار تک محدود نہیں رکھیں گے بلکہ اسے عوام کے بنیادی حقوق، ٹیکسوں کی منصفانہ تقسیم اور ملک کے حقیقی سیاسی و معاشی استحکام سے جوڑ کر عوامی عدالت میں لے کر جائیں گے۔
