وفاقی بجٹ دو سالہ انتھک محنت کا نتیجہ ہے، عطا تارڑ
اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ مالی سال 27-2026 کا وفاقی بجٹ ایک ہمہ جہت اور عوامی ریلیف پر مبنی بجٹ ہے، جو وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں گزشتہ دو سالوں کی انتھک حکومتی کوششوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی بجٹ دو سالہ مسلسل کوششوں کا عکاس ہے جس کا مقصد ملکی معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، جن کا ماننا ہے کہ وفاقی بجٹ کا بنیادی محور برآمدات پر مبنی معاشی ترقی ہے، اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کے ہمراہ ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، جس کی کوریج ریڈیو پاکستان نے بھی کی، عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیر اعظم نے تنخواہ دار طبقے، کاروباری برادری اور برآمدی شعبے سمیت معاشرے کے مختلف طبقات کو حقیقی ریلیف فراہم کرنے کا اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے۔ اس حوالے سے یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ بجٹ کے عوام، تاجر، کسان، ملازمین اور صنعت پر اثرات کس حد تک نمایاں ہوں گے۔
بجٹ میں برآمدات اور ہاؤسنگ سیکٹر کے لیے اقدامات
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ حکومت ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے برآمدات پر مبنی ترقی کی طرف گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈیوں میں ‘میڈ ان پاکستان’ مصنوعات کی موجودگی ہمارے لیے باعث فخر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برآمدی شعبے کے فروغ سے کاروبار میں وسعت آئے گی جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور مزدور طبقے کو فائدہ پہنچے گا۔
متوسط طبقے کے لیے حکومتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے ‘اپنا گھر پروگرام’ پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ بجٹ میں ہاؤسنگ سیکٹر کے لیے 90 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ چونکہ ہاؤسنگ اور تعمیراتی شعبہ درجنوں دیگر صنعتوں سے جڑا ہوا ہے، اس لیے اس سرمایہ کاری سے معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ مزید برآں، ہاؤسنگ سیکٹر کی معاونت کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکسوں میں بھی کمی کی گئی ہے۔
معاشی استحکام اور عالمی اداروں کا اعتراف
ملکی معیشت کی سابقہ صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو ملک کو منفی جی ڈی پی گروتھ کا سامنا تھا۔ ہمارا پہلا ہدف معاشی استحکام حاصل کرنا تھا، جسے اب عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ڈیووس میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر نے پاکستان میں کی جانے والی ساختی اصلاحات اور معاشی استحکام کو سراہا ہے۔ اس کے علاوہ، عالمی بینک اور دیگر ممالک نے بھی فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں اصلاحات کی تعریف کی ہے۔ معیشت اب ساڑھے تین سے چار فیصد شرح نمو کی طرف گامزن ہے۔
ٹیکس اصلاحات اور سماجی شعبے کی ترقی
عطا اللہ تارڑ نے ایف بی آر میں اصلاحات کو تاریخی اور بے مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب یہ ادارہ سیاسی اثر و رسوخ سے مکمل پاک ہے۔ حکومت نے ٹیکس چوری اور لیکیج کو روکنے کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی اور غیر ذاتی (فیس لیس) نظام نافذ کر کے شفافیت کو یقینی بنایا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ شوگر سیکٹر جیسی بڑی صنعتوں کے خلاف سخت اقدامات شروع کیے گئے ہیں تاکہ وہ قومی خزانے میں اپنا جائز حصہ ڈالیں اور ٹیکس کا سارا بوجھ صرف تنخواہ دار طبقے پر نہ پڑے۔
سماجی شعبے کے حوالے سے وزیر اطلاعات نے اسلام آباد جناح میڈیکل کمپلیکس، مظفرآباد میں دانش یونیورسٹی، اور سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں مختلف تعلیمی و طبی منصوبوں کے لیے خطیر فنڈز مختص کرنے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تمام سرکاری محکموں میں میرٹ پر بھرتیاں یقینی بنا کر سیاسی کلچر کو تبدیل کیا ہے۔ انہوں نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ معاشی مشکلات کو ترقی کے مستحکم روڈ میپ میں بدلنے کی حکومتی کوششوں کا اعتراف کرے۔
