وفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں سات فیصد اضافہ، سیکرٹری خزانہ کی وضاحت
اسلام آباد: وفاقی سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے واضح کیا ہے کہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد ایڈہاک ریلیف اضافہ کیا جائے گا جبکہ دو سابقہ ایڈہاک الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے سمیت دیگر مراعات بھی دی جائیں گی۔
ملازمین کے لیے الاؤنسز اور دیگر مراعات کی تفصیلات
پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کے بعد سرکاری خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے بجٹ میں سرکاری ملازمین کے لیے پیکج کی وضاحت کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملازمین کو بنیادی تنخواہ پر 7 فیصد ایڈہاک ریلیف کے ساتھ ساتھ 15 فیصد ڈسپیرٹی ریڈکشن الاؤنس (DRA) بھی دیا جائے گا، جس کا مقصد مختلف کیٹیگریز کے ملازمین کی تنخواہوں کے فرق کو ختم کرنا ہے۔
سیکرٹری خزانہ نے مزید بتایا کہ سفری اخراجات میں اضافے کے پیشِ نظر ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں 50 فیصد تک اضافہ منظور کیا گیا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
ماضی کے ایڈہاک ریلیف بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کا فیصلہ
امداد اللہ بوسال کے مطابق، ملازمین کے دو پرانے ایڈہاک ریلیف الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان میں سال 2022 میں دیا گیا 15 فیصد اور سال 2025 میں دیا گیا 10 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس شامل ہے۔ اس اقدام سے ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں نمایاں اضافہ ہوگا جس کے نتیجے میں دیگر مراعات اور پنشن کے حجم میں بھی بہتری آئے گی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور دیگر اعلیٰ حکام نے پریس کانفرنس کے دوران بجٹ کے اہم خدوخال پیش کیے تھے۔
