مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 16°C
پیر، 26 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.94 EUR/PKR 310.43 GBP/PKR 370.35 سونا/تولہ (عالمی) 415,119 PKR Bitcoin $79,916 USD/PKR 276.94 EUR/PKR 310.43 GBP/PKR 370.35 سونا/تولہ (عالمی) 415,119 PKR Bitcoin $79,916
رائے و تجزیہ

آبنائے ہرمز، بھارت کی خاموشی اور خطے کی اصل شطرنج

📅 ✍️ ⏱ 4 منٹ
آپریشن سندور پر مودی حکومت کی غلط بیانی بے نقاب، اپوزیشن اور سابق فوجی قیادت کا شدید غصہ
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا


تحریر: محمد خالد

دنیا کی سیاست میں کچھ فیصلے شور سے نہیں بلکہ خاموشی سے کیے جاتے ہیں… اور بھارت اس وقت اسی خاموشی کی پالیسی پر چل رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی کشیدگی میں جہاں کئی ممالک بیانات دے رہے ہیں، وہیں بھارت ایک محتاط تماشائی بنا بیٹھا ہے۔ بظاہر یہ خاموشی ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔

بھارت جانتا ہے کہ اس کی معیشت کا ایک بڑا انحصار خلیجی خطے پر ہے۔ اس کی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ اسی راستے سے پورا ہوتا ہے۔ اندازوں کے مطابق اس کا تقریباً 45 فیصد تیل اور 60 فیصد گیس اس سپلائی چین سے جڑی ہے جو آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے۔ یعنی یہ راستہ صرف ایک سمندری گزرگاہ نہیں بلکہ بھارت کی معاشی شہ رگ ہے۔ ایسی صورتحال میں کوئی بھی جذباتی یا جلد بازی میں دیا گیا بیان اس کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

اسی لیے بھارت نے ایک balanced approach اپنائی ہے۔ نہ وہ کھل کر کسی فریق کی حمایت کر رہا ہے اور نہ ہی مخالفت۔ اس کے لیے اصل ترجیح صرف ایک ہے — اپنی سپلائی لائن کو محفوظ رکھنا۔

دوسری طرف بھارت کے امریکہ اور مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات تیزی سے مضبوط ہوئے ہیں۔ دفاع، ٹیکنالوجی اور انٹیلیجنس کے شعبوں میں یہ تعلقات ایک نئی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ اگر بھارت کھل کر ایران کی طرف جھکاؤ دکھاتا ہے تو اسے مغرب کی ناراضی مول لینی پڑ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ انتہائی محتاط انداز میں کھیل رہا ہے، جیسے کوئی ماہر کھلاڑی ہر چال سوچ سمجھ کر چلتا ہے۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر بھارت اتنا سمجھدار ہے تو پھر ثالثی کیوں نہیں کرتا؟

یہاں مسئلہ صرف خواہش کا نہیں بلکہ اعتماد کا ہے۔ ایران بھارت کو مکمل طور پر ایک غیر جانبدار ملک نہیں سمجھتا، بلکہ اسے ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھتا ہے جو امریکہ کے قریب ہے۔ اس لیے بھارت کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اس تنازع میں ایک قابلِ اعتماد ثالث بن سکے۔

چاہ بہار پورٹ کی سرمایہ کاری کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ بھارت نے وہاں تقریباً 120 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جو بلاشبہ ایک اسٹریٹیجک قدم ہے، مگر اتنی بڑی نہیں کہ ایران اس بنیاد پر بھارت کو مکمل اعتماد دے دے۔ یہ تعلق فائدے کا ہے، مگر اعتماد کا نہیں۔

اس کے برعکس پاکستان کی پوزیشن قدرے مختلف ہے۔ پاکستان کے بیک وقت امریکہ، عرب ممالک اور چین کے ساتھ تعلقات اسے ایک منفرد سفارتی حیثیت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مواقع پر پاکستان کو ایک ایسے پل کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو مختلف طاقتوں کے درمیان رابطہ پیدا کر سکتا ہے۔

ایک اور اہم پہلو کشمیر کا مسئلہ ہے۔ بھارت ہمیشہ اسے اپنا اندرونی معاملہ قرار دیتا آیا ہے اور کسی بیرونی ثالث کو قبول نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ خود بھی عالمی تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کرنے سے گریز کرتا ہے، کیونکہ اگر وہ ایسا کرے تو اس پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے کہ وہ اپنے معاملات میں تیسرے فریق کو شامل کرے۔

آخر میں حقیقت یہی ہے کہ یہ ساری صورتحال صرف جنگ یا امن کی نہیں، بلکہ مفادات کی جنگ ہے۔ ہر ملک اپنے فائدے کو دیکھ رہا ہے۔ بھارت کی خاموشی کمزوری نہیں بلکہ ایک calculated move ہے — ایک ایسی چال جو بظاہر نظر نہیں آتی، مگر کھیل کا رخ بدل سکتی ہے۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں