مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
جمعہ، 2 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 434,021 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $85,927 USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 434,021 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $85,927
رائے و تجزیہ

اختیار ملے تو کردار بھی بلند ہونا چاہیے: حکمرانی کا سبق

📅 ہفتہ، 15 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 6 منٹ
اختیار ملے تو کردار بھی بلند ہونا چاہیے: حکمرانی کا سبق
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ انسان کی اصل پہچان اس کے عہدے، دولت یا اختیار سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور اس اختیار کے استعمال سے ہوتی ہے۔ صوفی شاعر اور عظیم مفکر مولانا جلال الدین رومیؒ سے منسوب ایک معروف قول اسی حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ “ایک ہزار قابل انسان مر جانے سے اتنا نقصان نہیں ہوتا، جتنا ایک اچھے صاحبِ اختیار کے مر جانے سے ہوتا ہے۔” اگرچہ اس جملے کی نسبت رومیؒ کی طرف معتبر بنیادی ماخذ سے واضح طور پر ثابت نہیں، تاہم اس کا مرکزی تصور رومی کی فکر میں عدل، رحم اور ذمہ دار قیادت کی اہمیت سے ہم آہنگ نظر آتا ہے۔

اختیار کا فلسفہ اور ذمہ داری کا احساس

یہ بات بظاہر ایک شخص اور ہزار افراد کے درمیان تقابل محسوس ہوتی ہے، لیکن اس کے پیچھے دراصل اختیار کے اثرات کا ایک گہرا فلسفہ موجود ہے۔ ایک قابل شخص اپنی صلاحیت سے ایک ادارے، شعبے یا معاشرے میں مثبت کردار ادا کرسکتا ہے، لیکن ایک صاحبِ اختیار شخص کے فیصلے بیک وقت ہزاروں بلکہ لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی سیلاب متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت اس بات کی عملی مثال ہے کہ کس طرح ایک اعلیٰ منصب پر فائز فرد کے فیصلے عوامی فلاح و بہبود پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اسی لیے منصب جتنا بڑا ہو، ذمہ داری بھی اتنی ہی زیادہ ہوجاتی ہے۔

اسلامی تعلیمات میں حکمرانی کا تصور

اسلامی تعلیمات میں بھی اختیار کو اعزاز سے زیادہ امانت اور جواب دہی قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں سورۃ النساء کی آیت 58 میں امانتیں ان کے اہل لوگوں تک پہنچانے اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرتے وقت انصاف کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے بھی ذمہ داری اور اختیار کے بارے میں انتہائی واضح اصول بیان فرمایا کہ ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گاِ۔ اس میں حکمران کو عوام کا ذمہ دار، گھر کے سربراہ کو اپنے اہل خانہ کا ذمہ دار اور ہر صاحبِ ذمہ داری شخص کو اپنے دائرہ اختیار کا جواب دہ قرار دیا گیا ہے۔

اسی تصور کی ایک اور مضبوط مثال صحیح بخاری کی حدیث میں ملتی ہے، جہاں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سایۂ رحمت پانے والے لوگوں میں “عادل حکمران” کو سب سے نمایاں مقام حاصل ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میں اقتدار کی اصل قدر طاقت، پروٹوکول یا اختیار نہیں بلکہ عدل و انصاف ہے۔ رومیؒ کی فکر میں بھی حکمران اور صاحبِ اختیار کے کردار کو محض انتظامی معاملہ نہیں سمجھا گیا بلکہ اسے انسانی اور اخلاقی ذمہ داری کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جیسے کہ افغانستان میں خواتین کے حقوق پانچ برس بعد بھی بدستور سلب ہیں، یہ صورتحال بتاتی ہے کہ جب اختیار عدل کے اصولوں سے دور ہو جائے تو معاشرے کے حقوق کس طرح متاثر ہوتے ہیں۔

اختیار کا امتحان اور کردار کی بلندی

رومی کی تعلیمات پر ہونے والی ایک علمی تحقیق میں ان کے افکار سے عدل، رحم اور عوام کے اعتماد پر مبنی حکمرانی کے تصورات کو نمایاں کیا گیا ہے۔ ان کے نزدیک ظلم پر قائم طاقت دیرپا نہیں ہوسکتی، جبکہ انصاف معاشرتی نظام کو مضبوط بناتا ہے۔ آج کے دور میں اس پیغام کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اختیار صرف صدر، وزیراعظم، وزیر یا بڑے سرکاری افسر کے پاس نہیں ہوتا۔ ایک جج کے فیصلے سے کسی شخص کی زندگی بدل سکتی ہے، استاد کی تربیت سے نسلیں سنور سکتی ہیں، ایک افسر کے ایک دستخط سے کسی خاندان کا مستقبل بدل سکتا ہے اور والدین کے رویے سے بچوں کی شخصیت تشکیل پاتی ہے۔

اسی طرح کسی ادارے کا سربراہ اگر دیانت دار، انصاف پسند اور انسان دوست ہو تو وہ پورے ادارے میں اعتماد اور کارکردگی کی فضا پیدا کرسکتا ہے۔ جیسے آرمی چیف کا یوم آزادی پر پاک فوج کے سابق فوجیوں کے اعزاز میں استقبالیہ میں بھی ایک ادارے کی سربراہی اور ذمہ داری کے حوالے سے ان کی خدمات کو سراہا گیا۔ اس کے برعکس اگر اختیار تکبر، ذاتی مفاد، اقرباپروری یا ناانصافی کے لیے استعمال ہو تو اس کے اثرات ایک فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا نظام متاثر ہوسکتا ہے۔ اس قول کا بنیادی سبق یہی ہے کہ صلاحیت اہم ہے، لیکن صلاحیت کے ساتھ کردار، انصاف اور ذمہ داری اس سے بھی زیادہ ضروری ہیں۔ اختیار دراصل انسان کا امتحان ہے۔ جسے جتنا زیادہ اختیار دیا جائے، اس سے اتنی ہی زیادہ دیانت، تحمل اور انصاف کی توقع کی جاتی ہے۔

ٹیگز: #اختیار #اخلاقی ذمہ داری #حکمرانی #عدل و انصاف #مولانا جلال الدین رومی
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں