مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
جمعرات، 8 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 427,866 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $81,226 USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 427,866 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $81,226
عالمی

امریکہ بھارت کے سیکیورٹی خدشات کا ضامن نہیں بن سکتا، ڈینیئل مارکی

📅 ہفتہ، 15 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 5 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ معروف امریکی خارجہ پالیسی ماہر اور امریکی انسٹی ٹیوٹ آف پیس (USIP) کے سینئر ایڈوائزر ڈینیئل مارکی نے بھارتی نیوز پلیٹ فارم ‘دی وائر’ کو دیے گئے اپنے ایک اہم اور تفصیلی انٹرویو میں واشنگٹن، نئی دہلی اور بیجنگ کے درمیان معاشی و دفاعی تعلقات کی موجودہ صورتحال پر گہری روشنی ڈالی ہے۔ ڈینیئل مارکی نے واشنگٹن کے سفارتی اور اسٹریٹجک حلقوں میں بھارت کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ امریکہ اور بھارت کے درمیان مختلف شعبوں میں شراکت داری مضبوط ہو رہی ہے، لیکن بھارتی انتظامیہ کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ واشنگٹن کبھی بھی خطے میں نئی دہلی کے تمام سیکیورٹی خدشات کا خودکار ضامن نہیں بنے گا۔ یاد رہے کہ خطے میں سعودی عرب کی قیادت میں 14 ملکی بحری دفاعی اتحاد قائم، پاکستان سمیت 13 ممالک شامل ہو چکے ہیں، جس کے اثرات عالمی سیاست پر مرتب ہو رہے ہیں۔

ایشیا میں چین کا اثر و رسوخ اور بھارتی توقعات

ڈینیئل مارکی نے انٹرویو کے دوران ایشیا بحرالکاہل اور جنوبی ایشیائی خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے حوالے سے امریکی اور بھارتی ترجیحات میں بنیادی فرق کو واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور چین کے درمیان تناؤ کی نوعیت عالمی اور عالمی بالادستی سے جڑی ہے، جبکہ بھارت اور چین کی کشیدگی زیادہ تر سرحدی تنازعات، مقامی بالادستی اور اقتصادی رقابت پر محیط ہے۔ اس لیے امریکہ، بھارت کی دفاعی صلاحیتوں کی مضبوطی کا حامی تو ہو سکتا ہے، لیکن سرحد پر پیش آنے والے ہر واقعے میں نئی دہلی کی توقعات کے مطابق یکطرفہ کارروائی کا متقاضی نہیں ہو سکتا۔ جس طرح آرمی چیف کا یوم آزادی پر پاک فوج کے سابق فوجیوں کے اعزاز میں استقبالیہ میں دفاعی عزم کا اظہار کیا گیا، ایسے ہی خطے میں دیگر ممالک بھی اپنی خودمختاری کو مقدم رکھتے ہیں۔

ہند و امریکہ تجارتی تعلقات کی حدود

امریکی پالیسی ماہر نے ہند و امریکہ تجارتی اور تکنیکی تعلقات کے مستقبل کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ کوآڈ (Quad) جیسے فورمز دونوں ممالک کو قریب لائے ہیں، لیکن امریکہ کی اندرونی سیاست، صنعتی تحفظ پسندی اور بین الاقوامی تجارتی پالیسیاں بعض اوقات ہند امریکی اقتصادی تعاون کی راہ میں حائل ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن میں پالیسی ساز بھارت کو چین کے مقابلے میں ایک اہم توازن قائم کرنے والی طاقت کے طور پر دیکھتے ہیں، تاہم اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ امریکہ اپنی خارجہ پالیسی کے دیگر اہداف اور ترجیحات کو بھارت کی علاقائی پالیسیوں کے تابع کر دے۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی سیلاب متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت جیسے ملکی مفاد کے اقدامات پر کوئی بھی ملک سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔

جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور پاکستان

پاک بھارت تعلقات اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی پر گفتگو کرتے ہوئے ڈینیئل مارکی کا کہنا تھا کہ امریکہ کے لیے جنوبی ایشیا میں پائیدار قائم امن ہمیشہ ترجیح رہا ہے۔ واشنگٹن خطے میں کسی نئے فوجی تصادم یا بحران کا بالکل متحمل نہیں ہو سکتا، اس لیے امریکی خارجہ پالیسی ساز ہمیشہ یہی چاہیں گے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم سے کم رہے اور تمام تنازعات کا حل مذاکرات کی میز پر نکلے۔ انہوں نے زور دیا کہ واشنگٹن کی خواہش ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رہے اور کوئی بھی ملک یکطرفہ اقدامات سے خطے کے استحکام کو برباد نہ کرے۔

اسٹریٹجک شراکت داری میں حقیقت پسندی

ڈینیئل مارکی نے اپنے انٹرویو کا اختتام اس نتیجے پر کیا کہ مستقبل کی ہند امریکی اسٹریٹجک شراکت داری کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں ممالک کس حد تک ایک دوسرے کی آزادی اور مختلف ترجیحات کا احترام کرتے ہیں۔ ان کے بقول، نئی دہلی کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ امریکی پالیسی ساز ہمیشہ اپنے ملکی مفادات کو مقدم رکھیں گے، اس لیے بھارت کو امریکہ کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو فروغ دیتے ہوئے حقیقت پسندانہ توقعات رکھنی چاہئیں نہ کہ کسی غیر حقیقی اور مطلق تحفظ کے وہم میں مبتلا رہنا چاہیے۔

ٹیگز: #امریکہ بھارت تعلقات #جنوبی ایشیا #خارجہ پالیسی #ڈینیئل مارکی
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں