مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
جمعرات، 8 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 428,157 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $82,653 USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 428,157 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $82,653
قومی

لانگ مارچ کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے جواب طلب

📅 جمعرات، 08 اکتوبر 2026 ✍️ Dost news ⏱ 3 منٹ
لانگ مارچ کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے جواب طلب
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

لانگ مارچ کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے جواب طلب

پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے لیے سرکاری وسائل کے مبینہ استعمال سے متعلق درخواست پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے جواب طلب کرتے ہوئے نوٹس جاری کردیا۔

چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ ایس ایم عتیق شاہ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی قاری ظاہر کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سیاسی سرگرمیوں اور احتجاجی مارچ کے لیے سرکاری وسائل کے استعمال پر عدالتی پابندی کے باوجود وزیراعلیٰ سہیل آفریدی 4 اکتوبر کو پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے آغاز کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذریعے لکی مروت پہنچے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ لانگ مارچ کے دوران سرکاری وسائل کے مبینہ استعمال کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ذمہ داران سے وضاحت طلب کی جائے۔ عدالت نے سماعت کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاملے پر جواب طلب کرلیا۔

4 اکتوبر کو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی لکی مروت کے گنڈی چوک پہنچے تھے، جہاں سے پی ٹی آئی کے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز کیا گیا۔ وزیراعلیٰ کے سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذریعے لکی مروت پہنچنے کے دوران لینڈنگ کے موقع پر ایک کارکن کا پارٹی پرچم ہیلی کاپٹر کے پروں سے ٹکرا گیا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

اسی روز گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی سرکاری ہیلی کاپٹر کے استعمال پر اعتراض اٹھاتے ہوئے اسے اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ گورنر نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کے دوران بھی اس معاملے پر گفتگو کی تھی۔

یہ معاملہ ایسے وقت میں عدالت کے سامنے آیا ہے جب اسلام آباد ہائیکورٹ نے 14 ستمبر 2026 کے فیصلے میں سیاسی مارچ، ریلی یا احتجاج کے لیے سرکاری فنڈز، گاڑیوں، مشینری، سرکاری اہلکاروں یا دیگر حکومتی وسائل کے استعمال سے متعلق پابندیوں کی ہدایات جاری کی تھیں۔

اس سے قبل پشاور ہائیکورٹ بھی سیاسی سرگرمیوں کے لیے سرکاری گاڑیوں، مشینری اور سرکاری ملازمین کے استعمال سے متعلق احکامات جاری کرچکی ہے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے جواب طلب کیے جانے کے بعد معاملے کا آئندہ فیصلہ ان کے جواب اور عدالت کی مزید کارروائی سے ہوگا۔ عدالت نے فی الحال سرکاری ہیلی کاپٹر کے استعمال کو خلاف قانون قرار نہیں دیا بلکہ وزیراعلیٰ سے اس معاملے پر وضاحت طلب کی ہے۔

SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں