مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,843 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,843
قومی

سعودی عرب کی قیادت میں 14 ملکی بحری دفاعی اتحاد قائم، پاکستان سمیت 13 ممالک شامل

📅 جمعہ، 14 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 6 منٹ
سعودی عرب کی قیادت میں 14 ملکی بحری دفاعی اتحاد قائم، پاکستان سمیت 13 ممالک شامل
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

سعودی عرب کی قیادت میں 14 ملکی بحری دفاعی اتحاد قائم، پاکستان سمیت 13 ممالک شامل

ریاض: سعودی عرب نے بحیرہ احمر، آبنائے باب المندب اور خلیج عدن میں جہاز رانی اور تجارتی راستوں کے تحفظ کے لیے کثیر ملکی بحری دفاعی اتحاد کے باضابطہ قیام کا اعلان کردیا ہے، جس میں پاکستان سمیت 14 ممالک شامل ہیں۔ اتحاد کا مقصد اہم سمندری گزرگاہوں میں آزادیِ نقل و حرکت اور تجارتی و توانائی کی ترسیل کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

اتحاد میں سعودی عرب کے علاوہ پاکستان، ترکیہ، مصر، سوڈان، اردن، قطر، کویت، بحرین، یمن، بنگلہ دیش، جبوتی، صومالیہ اور کوموروس شامل ہیں۔ سعودی عرب نے اتحاد کے مستقل ہیڈکوارٹر کی میزبانی بھی اپنے ذمے لی ہے۔

اتحاد کے قیام کا بنیادی مقصد بحیرہ احمر اور اس سے منسلک اہم سمندری راستوں کو مسلح حملوں، بحری خطرات اور جہاز رانی میں رکاوٹوں سے محفوظ بنانا ہے۔ ان راستوں کی عالمی تجارت میں غیر معمولی اہمیت ہے کیونکہ باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملانے والی اہم گزرگاہ ہے۔

سعودی عرب نے 30 جولائی کو ریاض میں کثیر ملکی بحری دفاعی اتحاد کے قیام کے اعلامیے پر دستخط کی میزبانی کی تھی۔ اس اجلاس میں 43 ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی، جبکہ 51 ممالک کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ عرب نیوز کے مطابق بانی اعلامیے پر 14 ممالک نے دستخط کیے۔

سعودی قیادت میں قائم اس اتحاد کو خطے میں بدلتے ہوئے سکیورٹی حالات کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ بحیرہ احمر اور باب المندب میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات کے باعث عالمی شپنگ کمپنیوں اور توانائی کی ترسیل کو مسلسل دباؤ کا سامنا رہا ہے۔

رائٹرز کے مطابق سعودی عرب نے حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران اپنی دفاعی صلاحیت اور علاقائی شراکت داری کو مضبوط بنانے کی پالیسی اختیار کی ہے۔ بحری اتحاد کے ساتھ ساتھ سعودی عرب نے پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ مکہ دفاعی معاہدہ بھی کیا ہے، تاہم دونوں انتظامات الگ نوعیت کے ہیں۔

سعودی وزارت دفاع نے اس اتحاد کے عملی ڈھانچے کی تشکیل کی جانب بھی پیش رفت کی ہے۔ رواں ماہ میجر جنرل عبداللہ الشہری کو کثیر ملکی بحری دفاعی اتحاد کا کمانڈر مقرر کیا گیا، جبکہ رکن ممالک کے افسران کو مشترکہ کمانڈ کے ڈھانچے میں شامل کرنے کا عمل بھی شروع کردیا گیا ہے۔

پاکستان کی شمولیت اس اتحاد کو خصوصی اہمیت دیتی ہے۔ پاکستان بحیرہ عرب اور بحر ہند کے اہم سمندری راستوں سے جڑا ہوا ہے اور اس کی بحریہ کو طویل عرصے سے علاقائی اور بین الاقوامی بحری سلامتی کے آپریشنز میں تجربہ حاصل ہے۔ پاکستان نے اس اتحاد کے فیصلوں پر عملدرآمد کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔

اتحاد کا قیام ایسے وقت میں ہوا ہے جب بحیرہ احمر اور باب المندب میں سکیورٹی صورتحال انتہائی حساس ہے۔ 11 اگست کو باب المندب میں ایک مصری ملکیتی کارگو جہاز پر حوثی حملے میں چار عملے کے ارکان اور دو یمنی امدادی کارکن ہلاک ہوئے، جبکہ دیگر افراد زخمی ہوئے۔ اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر اس اہم سمندری راستے کو درپیش خطرات کو نمایاں کیا۔

سعودی عرب کے لیے بحیرہ احمر کی سکیورٹی اس کے اقتصادی مفادات کے باعث بھی انتہائی اہم ہے۔ ملک اپنی بندرگاہوں، لاجسٹکس، تجارت اور سیاحتی منصوبوں کو وسعت دے رہا ہے، جبکہ بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے سعودی وژن 2030 کے متعدد بڑے منصوبوں کا مرکز ہیں۔ سمندری راستوں کا محفوظ رہنا ان اقتصادی سرگرمیوں اور عالمی تجارت دونوں کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

دفاعی اتحاد کے اعلان کو سعودی عرب کی جانب سے علاقائی سلامتی میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق سعودی عرب موجودہ علاقائی بحران کے دوران ایک طرف سفارتی راستے کھلے رکھنے اور دوسری جانب مختلف علاقائی دفاعی شراکت داریوں کے ذریعے اپنی دفاعی پوزیشن مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

نئے بحری اتحاد کے حوالے سے اہم سوال اس کی عملی صلاحیت، کمانڈ اینڈ کنٹرول، رکن ممالک کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ اور ممکنہ فوجی کارروائیوں کے طریقہ کار سے متعلق ہیں۔ سعودی قیادت میں اتحاد کی تشکیل اور مشترکہ کمانڈ کے قیام کی جانب پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے محض سیاسی فورم کے بجائے عملی سکیورٹی تعاون کے ڈھانچے میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر اتحاد رکن ممالک کی بحری افواج، نگرانی کے نظام، انٹیلی جنس اور رسپانس صلاحیتوں کو مؤثر انداز میں مربوط کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ بحیرہ احمر، باب المندب اور خلیج عدن میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ایک اہم علاقائی میکانزم بن سکتا ہے۔ تاہم اس کی کامیابی کا انحصار رکن ممالک کی عملی شرکت، مشترکہ قواعد اور خطے میں جاری تنازعات کی شدت پر ہوگا۔

SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں