پی ٹی آئی قومی مفاد کے بجائے سیاسی ایجنڈے کو ترجیح دے رہی ہے، رانا ثنائ اللہ

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنائ اللہ نے بدھ کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) مسلسل تصادم پر مبنی سیاسی ایجنڈے پر گامزن ہے، اور کسی بھی سیاسی جماعت کو اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اپنے سیاسی مفادات کو قومی سلامتی اور شہریوں کی زندگیوں پر فوقیت دے۔
سیاسی محاذ آرائی کا تسلسل
رانا ثنائ اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی، بالخصوص اسلام آباد کی جانب بار بار مارچ، ملک میں عدم برداشت اور محاذ آرائی کو ہوا دینے کا باعث بنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس رجحان کی جڑیں 2014 کے اسلام آباد دھرنے میں پیوست ہیں، تب سے وفاقی دارالحکومت کو سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا دیا گیا ہے۔ 2022 اور 2024 کے بعد اب 2026 میں بھی اسی طرزِ عمل کو دہرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت صوبے کی گورننس اور سیکیورٹی کی صورتحال پر توجہ دینے کے بجائے اپنے وسائل کو اسلام آباد مارچ کی سہولت کاری کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
دہشت گردی کے خلاف قربانیاں اور صوبائی ذمہ داری
مشیر برائے سیاسی امور نے کہا کہ یہ سیاسی سرگرمیاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی اہلکار اور عام شہری دہشت گردی کے واقعات میں جانیں قربان کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک جانب شہدا کے جسدِ خاکی ہیں جن میں پولیس اور مسلح افواج کے جوان شامل ہیں، جبکہ دوسری جانب صوبائی حکومت لوگوں کو مارچ کے لیے جمع کرنے کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ رانا ثنائ اللہ نے زور دیا کہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے بعد حاصل ہونے والی کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے لیے صوبائی انتظامیہ کا کردار کلیدی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب فورسز کسی علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کر لیتی ہیں تو وہاں امن و امان قائم رکھنے کے لیے سول انتظامیہ اور پولیس کی موجودگی ناگزیر ہوتی ہے۔
آپریشنز کے بارے میں غلط فہمیاں
انہوں نے اس تاثر کو سختی سے مسترد کیا کہ حکومت کوئی نیا بڑا فوجی آپریشن شروع کرنے جا رہی ہے جس سے خیبر پختونخوا میں لوگوں کی نقل مکانی ہو گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں پہلے سے موجود انسداد دہشت گردی پالیسی کے تحت انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) روزانہ کی بنیاد پر جاری ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے واضح طور پر کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی موجودہ کارروائیوں کے نتیجے میں عوام کو نقل مکانی نہیں کرنی پڑے گی۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ انہیں مشاورت میں شامل نہیں کیا گیا، اسے غلط اور گمراہ کن قرار دیا۔
افغانستان کے ساتھ تعلقات
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے رانا ثنائ اللہ نے کہا کہ اسلام آباد کا مطالبہ بالکل جائز ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ پاکستان نے افغان عبوری حکام کو ٹھوس شواہد فراہم کیے ہیں اور انہوں نے اسے تسلیم بھی کیا ہے، لیکن ابھی تک اس بات کی ضمانت نہیں ملی کہ ان کی سرزمین دوبارہ استعمال نہیں ہوگی۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان کو اپنی سلامتی کے لیے کسی بھی ایسے تربیتی کیمپ یا سرگرمی کو بے اثر کرنے کا حق حاصل ہے جو ملک کے لیے خطرہ ہو۔
واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف پہلے ہی وزیراعظم شہباز شریف کا ڈی آئی خان آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کر چکے ہیں، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کا شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی آپریشن پر خراج تحسین بھی ان کے عزم کا اظہار ہے۔ اس سے قبل سعودی عرب میں پاکستانی فورسز پہلے سے موجود ہیں، مکہ دفاعی اتحاد کسی خلاء میں نہیں بنا: ڈی جی آئی ایس پی آر بھی سیکیورٹی معاملات پر قومی موقف کا اعادہ کر چکے ہیں۔
