مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
جمعرات، 8 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 428,157 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $82,653 USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 428,157 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $82,653
قومی

چین میں اے آئی ڈیجیٹل انسانوں کی رجسٹریشن شروع، مستقبل کے انسان نما روبوٹس کی کاروباری سرگرمیوں کی راہ ہموار

📅 جمعرات، 08 اکتوبر 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
چین میں اے آئی ڈیجیٹل انسانوں کی رجسٹریشن شروع، مستقبل کے انسان نما روبوٹس کی کاروباری سرگرمیوں کی راہ ہموار (تصویر 1)
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

چین میں اے آئی ڈیجیٹل انسانوں کی رجسٹریشن شروع، مستقبل کے انسان نما روبوٹس کی کاروباری سرگرمیوں کی راہ ہموار

بیجنگ: چین نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ڈیجیٹل انسانوں کو شناخت اور ضابطہ کاری کے دائرے میں لانے کی جانب اہم قدم اٹھا لیا ہے۔ ملک میں اے آئی سے تیار کردہ ورچوئل شخصیات کی رجسٹریشن اور انہیں پیشہ ورانہ شناخت فراہم کرنے کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جسے مستقبل میں انسان نما روبوٹس اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیجیٹل کرداروں کی کاروباری سرگرمیوں کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

چین کی ڈیجیٹل شخصیت ’’یوری‘‘ اس نئے نظام کی نمایاں مثال بن گئی ہے۔ یوری کوئی حقیقی انسان نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک ورچوئل فنکار ہے جو گانے پیش کرسکتی ہے، مداحوں سے رابطہ کرسکتی ہے اور اپنی ظاہری شکل اور لباس میں ڈیجیٹل تبدیلیاں کرسکتی ہے۔

چینی حکام کے مطابق یوری کو سرکاری سطح پر ڈیجیٹل شناختی تصدیق فراہم کی گئی ہے، جس میں اس کا نام، تاریخ پیدائش، پتہ اور چہرے کے خدوخال جیسی معلومات شامل ہیں۔ تاہم یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ عام چینی شہریوں کو جاری ہونے والا قومی شناختی کارڈ نہیں بلکہ ڈیجیٹل انسانوں کے لیے مخصوص شناختی اور ضابطہ جاتی نظام کا حصہ ہے۔

جون 2026 میں یوری کو ’’ڈیجیٹل آرٹسٹ کارڈ‘‘ بھی جاری کیا گیا، جسے چین میں ڈیجیٹل فنکاروں کے لیے اپنی نوعیت کی پہلی پیشہ ورانہ شناخت قرار دیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ڈیجیٹل شخصیات کی ملکیت، ذمہ داری، مواد اور تجارتی سرگرمیوں کو ایک باقاعدہ قانونی اور ضابطہ جاتی فریم ورک کے تحت لانا ہے۔

چین میں اے آئی ڈیجیٹل انسانوں کی رجسٹریشن شروع، مستقبل کے انسان نما روبوٹس کی کاروباری سرگرمیوں کی راہ ہموار (تصویر 2)

چین میں ڈیجیٹل انسانوں کے لیے متعارف کرائے گئے نظام کے تحت ان شخصیات کو تشہیر، تفریح، نشریات، برقی تجارت اور دیگر تجارتی سرگرمیوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ ان کے پیچھے موجود کمپنی یا منتظم کو قابل شناخت اور جواب دہ رکھنے کے لیے مختلف تصدیقی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

یوری کو چین کے ڈیجیٹل مالیاتی نظام سے بھی منسلک کیا گیا ہے۔ اس کے منتظم ادارے کارپوریٹ ڈیجیٹل رینمنبی بٹوے استعمال کرسکتے ہیں، جن کے ذریعے تجارتی ادائیگیوں، برانڈ شراکت داری اور دیگر کاروباری سرگرمیوں کا انتظام کیا جاسکتا ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ یوری کو خود انسان یا آزاد قانونی شخصیت کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔ مالی اور قانونی ذمہ داری اس کے پیچھے موجود ادارے یا منتظم پر عائد ہوتی ہے۔

چین میں ڈیجیٹل انسانوں کی صنعت بھی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق ملک میں اس شعبے سے وابستہ کمپنیوں کی تعداد 13 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ ڈیجیٹل شخصیات کو نشریات، مختصر ڈراموں، براہ راست آن لائن نشریات، برقی تجارت، آن لائن تفریح اور دیگر شعبوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

چین کے اس اقدام نے مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے حوالے سے ایک اہم سوال بھی کھڑا کردیا ہے کہ اگر آج ایک ورچوئل شخصیت کو شناخت، پیشہ ورانہ حیثیت اور تجارتی سہولت فراہم کی جاسکتی ہے تو مستقبل میں جسمانی انسان نما روبوٹس کو کس حد تک کاروباری اور قانونی نظام کا حصہ بنایا جائے گا؟

ماہرین کے مطابق موجودہ نظام کا مقصد مصنوعی ذہانت کو انسان کے مساوی قانونی حیثیت دینا نہیں بلکہ اس کے پیچھے موجود انسانی منتظم، کمپنی یا ادارے کی شناخت اور جواب دہی یقینی بنانا ہے۔ تاہم یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف سافٹ ویئر یا چیٹ بوٹس تک محدود نہیں رہی بلکہ ڈیجیٹل شناخت، تجارت اور مالیاتی نظام کے ساتھ بھی تیزی سے منسلک ہورہی ہے۔

SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں