گلوان وادی کا خونی تصادم چین اور بھارت میں فیصلہ کن موڑ

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ لداخ کی بلند و بالا، دشوار گزار اور انتہائی سرد وادیِ گلوان میں جون 2020 کی ایک تاریک رات کو پیش آنے والے خونی تصادم نے چین اور بھارت کے تعلقات کی تاریخ کو ایک نئے اور انتہائی کشیدہ دور میں داخل کر دیا۔ لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر تقریباً ساڑھے چار دہائیوں کے بعد یہ پہلا بڑا موقع تھا جب دونوں ایٹمی طاقتوں کی افواج کے درمیان اس شدت کا جان لیوا تصادم ہوا۔ اس جھڑپ میں بھارت کے 20 فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ چین نے بعد ازاں سرکاری طور پر اپنے 4 فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف کیا۔
گلوان وادی کا تنازع اور باہمی بداعتمادی
گلوان وادی کا یہ واقعہ محض ایک سرحدی جھڑپ نہیں تھا بلکہ اس نے دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے موجود بداعتمادی کو مزید گہرا کر دیا۔ جون 2020 کے دوران گلوان ندی کے قریب سرحدی پوزیشنوں پر دونوں ممالک کے فوجی ایک دوسرے کے انتہائی قریب آ گئے تھے۔ کشیدگی کئی دنوں سے جاری تھی اور دونوں جانب فوجی دستے ایک دوسرے کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ جیسا کہ کویت کا آبنائے ہرمز سے تیل کی برآمد کے لیے متبادل راستوں پر غور کے معاملے میں دیکھا گیا، جغرافیائی اور تزویراتی راستوں پر کشیدگی ہمیشہ علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہوتی ہے۔
غیر روایتی ہتھیاروں کا استعمال اور حالات
اس واقعے کی ایک غیر معمولی خصوصیت یہ تھی کہ جھڑپ کے دوران روایتی آتشیں ہتھیاروں کا استعمال نہیں کیا گیا۔ سرحدی انتظامات اور سابقہ معاہدوں کے باعث فریقین کے لیے بعض حالات میں آتشیں اسلحے کے استعمال پر سخت پابندیاں موجود تھیں۔ نتیجتاً یہ تصادم گولیوں کے بجائے ہاتھا پائی، ڈنڈوں، پتھروں اور دیگر دستی اشیا کے استعمال تک پہنچ گیا۔
اندھیری رات، دشوار گزار پہاڑی علاقے اور شدید سرد موسم نے صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا۔ گلوان ندی کے قریب انتہائی تنگ اور بلند پہاڑی راستوں پر دونوں جانب کے اہلکاروں کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی۔ متعدد فوجی توازن برقرار نہ رکھ سکے اور گہری کھائیوں یا یخ بستہ پانی میں جا گرے، جس سے جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔ اس واقعے نے دنیا بھر میں خاصی توجہ حاصل کی کیونکہ یہ دو ایٹمی طاقتوں کی افواج کے درمیان براہِ راست اور خونریز تصادم تھا۔
جانی نقصان اور سرکاری بیانات
بھارتی فوج نے واقعے کے بعد تصدیق کی کہ ایک کرنل سمیت اس کے 20 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ دوسری جانب چین نے فوری طور پر اپنے جانی نقصان کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں۔ کئی ماہ بعد بیجنگ نے سرکاری طور پر تصدیق کی کہ گلوان تصادم میں اس کے 4 فوجی ہلاک ہوئے تھے، جنہیں بعد میں سرکاری طور پر اعزاز بھی دیا گیا۔ تاہم مختلف آزاد ذرائع اور بین الاقوامی رپورٹس میں چینی جانی نقصان کے حوالے سے زیادہ اعداد و شمار کے دعوے بھی سامنے آتے رہے، اگرچہ چین نے سرکاری طور پر چار ہلاکتوں ہی کو تسلیم کیا۔
فوجی تعیناتی اور خطے پر اثرات
گلوان تصادم کے بعد چین اور بھارت نے ایل اے سی پر بڑے پیمانے پر فوجی تعیناتی شروع کر دی۔ دونوں جانب اضافی فوجی دستے، توپ خانہ، ٹینک، میزائل، فضائی دفاعی نظام اور دیگر جدید عسکری سازوسامان پہنچایا گیا۔ یوں ایک محدود سرحدی تنازع نے مکمل فوجی محاذ آرائی کے خدشات کو جنم دے دیا۔ یہ صورتحال خطے میں پاکستان میں پہلی قومی پاور سیکٹر انوویشن پروگرام کا اجرا جیسے مثبت اقدامات کے برعکس ایک منفی رجحان کی عکاس تھی۔
بعد ازاں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور عسکری سطح پر مذاکرات کے متعدد دور ہوئے۔ بعض مقامات پر فوجی دستوں کی واپسی اور کشیدگی میں کمی کے لیے اقدامات بھی کیے گئے، تاہم گلوان کا واقعہ چین اور بھارت کے درمیان اعتماد کے بحران کی ایک بڑی علامت بن چکا ہے۔
نمائندہ خصوصی کے مطابق، گلوان کی خونریز رات نے یہ واضح کر دیا کہ ہمالیائی سرحد پر ایک معمولی تنازع بھی دو بڑی ایٹمی طاقتوں کے درمیان انتہائی سنگین بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم نے ایس آئی ایف سی کو کاروباری آسانیوں کے لیے ضابطہ جاتی اصلاحات کا مینڈیٹ دے دیا ہے، لیکن 2020 کا یہ واقعہ آج بھی چین بھارت تعلقات، خطے کی سلامتی اور ایشیائی جیوپولیٹکس پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔
