وزیراعظم نے ایس آئی ایف سی کو کاروباری آسانیوں کے لیے ضابطہ جاتی اصلاحات کا مینڈیٹ دے دیا

وزیراعظم نے ایس آئی ایف سی کو کاروباری آسانیوں کے لیے ضابطہ جاتی اصلاحات کا مینڈیٹ دے دیا
اسلام آباد: وزیراعظم نے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کو ملک میں کاروباری ماحول کو مزید سازگار بنانے اور کاروباری آسانیوں کے لیے ضابطہ جاتی اصلاحات اور ریگولیٹری گِلّوٹین کے عمل کو تیز کرنے کا مینڈیٹ دے دیا ہے۔
ضابطہ جاتی اصلاحات اور ریگولیٹری گِلّوٹین کے ذریعے کاروباری اداروں کو درپیش غیر ضروری ضوابط، پیچیدہ لائسنسنگ، اضافی کاغذی کارروائی اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کو کم یا ختم کرنے پر توجہ دی جائے گی۔
حکام کے مطابق فرسودہ تعمیلی تقاضوں اور غیر ضروری کاغذی کارروائی کا منظم جائزہ لے کر انہیں آسان بنانے یا مکمل طور پر ختم کرنے سے کاروباری اداروں کے آپریشنل اخراجات اور کاروبار شروع کرنے میں حائل رکاوٹوں میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
بورڈ آف انویسٹمنٹ نے ابتدائی طور پر ریگولیٹری گِلّوٹین کا فریم ورک متعارف کرایا تھا، تاہم مختلف نظامی اور ادارہ جاتی رکاوٹوں کے باعث اصلاحات پر عملدرآمد کی رفتار مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچ سکی۔
کاروباری سرگرمیوں کے لیے رکاوٹوں سے پاک ماحول کی فوری ضرورت کے پیش نظر وزیراعظم نے ایس آئی ایف سی کو ہول آف گورنمنٹ اپروچ کے تحت ان ساختی اصلاحات کی قیادت کا مینڈیٹ دیا ہے۔
ایس آئی ایف سی کی نگرانی میں اصلاحاتی عمل میں تیزی آئی ہے، جبکہ مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو بہتر بناتے ہوئے ضابطہ جاتی اصلاحات پر عملدرآمد کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق اصلاحات کا مقصد پاکستان میں کاروبار شروع کرنے اور چلانے کے عمل کو آسان بنانا، سرمایہ کاروں کے لیے غیر ضروری رکاوٹیں دور کرنا اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ایک مسابقتی، شفاف اور پرکشش کاروباری ماحول تشکیل دینا ہے۔
