ایران کے میزائل حملوں کا دعویٰ، امریکہ کی جوابی کارروائی سے کشیدگی
واشنگٹن/تہران (نمائندہ خصوصی)۔ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ جنگ بندی کے بعد ایک بار پھر کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایران نے اردن میں امریکی فوجی اہداف پر بیلسٹک میزائل داغنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے تمام میزائل راستے میں ہی تباہ کر دیے ہیں اور کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے اردن میں واقع امریکی فوجی تنصیبات اور امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) سے متعلق اہداف کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں کے ردعمل میں کی گئی۔
امریکی فضائی دفاعی نظام کا کردار
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے کہا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے تمام میزائل فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔ امریکی فوج کے مطابق حملے میں کوئی امریکی فوجی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا اور تمام تنصیبات مکمل طور پر محفوظ رہیں۔ اس صورتحال میں جہاں دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ سے ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کی کھپت بڑھے گی کے موضوع پر بحث جاری ہے، وہیں توانائی کے عالمی بحران کے خدشات بھی سر اٹھانے لگے ہیں۔
عراق میں امریکی و سعودی مشترکہ کارروائی
ادھر امریکہ اور سعودی عرب نے عراق میں ایران نواز مسلح گروپوں کے ٹھکانوں پر مشترکہ فضائی کارروائی کی تصدیق کی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ حملے خطے میں امریکی اور اتحادی افواج پر ہونے والے حملوں کے جواب میں کیے گئے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی پابندیوں اور جنگ کے باوجود ایرانی معیشت کیسے مستحکم رہی؟ کا معاملہ بھی عالمی مبصرین کے لیے ایک معمہ بنا ہوا ہے۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال اور عالمی منڈی
ایران نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں وارننگ نظر انداز کرنے والے تین آئل ٹینکروں کو روک لیا ہے، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی ٹرمپ اور نیتن یاہو کی وائٹ ہاؤس میں اہم ملاقات، ایران زیر بحث جیسے واقعات خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرتے رہے ہیں۔ عالمی خبر رساں اداروں Reuters اور Associated Press (AP) کے مطابق ان واقعات کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر صورتحال مزید بگڑی تو عالمی توانائی کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
