آبنائے ہرمز میں پھنسے جہاز عالمی سمندری حیات کے لیے خطرہ
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں مہینوں سے رکے ہوئے ہزاروں تجارتی جہاز صرف عالمی تجارت ہی نہیں بلکہ سمندری ماحول کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ بین الاقوامی سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ جب یہ جہاز دوبارہ دنیا بھر کی بندرگاہوں کی جانب روانہ ہوں گے تو ان کے ذریعے حملہ آور سمندری جاندار مختلف ممالک کے ساحلی علاقوں میں منتقل ہو سکتے ہیں، جس سے مقامی ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ حال ہی میں خلیجی ممالک نے آبنائے ہرمز کے متبادل سات آئل پائپ لائن منصوبے شروع کیے ہیں تاکہ خطے کی کشیدگی کے معاشی اثرات کو کم کیا جا سکے، تاہم ماحولیاتی خطرات اب بھی بدستور موجود ہیں۔
ماحولیاتی تحقیق اور انتباہ
یہ انتباہ یونیورسٹی آف میری لینڈ سینٹر فار انوائرمنٹل سائنس (UMCES) کی قیادت میں ہونے والی ایک بین الاقوامی تحقیق میں سامنے آیا ہے، جو سائنسی جریدے Biological Invasions میں شائع ہوئی۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث تقریباً 1,500 سے زائد تجارتی جہاز خلیج فارس میں جبکہ سیکڑوں جہاز خلیج عمان میں طویل عرصے سے لنگر انداز ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب جہاز لمبے عرصے تک ایک ہی مقام پر کھڑے رہتے ہیں تو ان کے نچلے حصوں پر بارنیکل، الجی، مسلز، گھونگھے اور دیگر سمندری جاندار تیزی سے جمع ہونے لگتے ہیں۔
بائیو انویژن سپر اسپریڈر ایونٹ
تحقیقی ٹیم نے اس صورتحال کو "بائیو انویژن سپر اسپریڈر ایونٹ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں جہازوں کا ایک ہی علاقے میں مہینوں تک کھڑا رہنا غیر معمولی واقعہ ہے، جس کے اثرات عالمی سمندری ماحول پر طویل عرصے تک مرتب ہو سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ جیسے امریکی تجارتی ٹیرف کے اثرات: پاکستان کے ڈالر بانڈز کی قدر میں گراوٹ جیسے مسائل عالمی معیشت کو متاثر کر رہے ہیں، ویسے ہی سمندری حیات کا یہ بحران بھی تشویشناک ہے۔ تحقیق کے مطابق حملہ آور سمندری انواع نہ صرف مقامی آبی حیات کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ ماہی گیری، بندرگاہی انفراسٹرکچر اور ساحلی معیشت کے لیے بھی اربوں ڈالر کے نقصانات کا سبب بن سکتی ہیں۔ ایک بار یہ انواع کسی نئے ماحول میں پھیل جائیں تو ان پر قابو پانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ سائنس دانوں نے عالمی شپنگ کمپنیوں، بندرگاہی حکام اور ریگولیٹری اداروں پر زور دیا ہے کہ جہازوں کے نچلے حصوں کی باقاعدہ صفائی، بائیوفاؤلنگ مینجمنٹ اور حساس بندرگاہوں کی نگرانی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ جہاں ایک طرف ایران سے مذاکرات جاری، سعودی عرب کے لیے ٹرمپ کی نئی شرط جیسے سیاسی معاملات زیر بحث ہیں، وہیں ماہرین کا ماننا ہے کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال نے واضح کر دیا ہے کہ عالمی سمندری تجارت کے بحران صرف اقتصادی نہیں ہوتے بلکہ ان کے ماحولیاتی اثرات بھی پوری دنیا کے لیے ایک بڑے چیلنج کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔
