ایران سے مذاکرات جاری، سعودی عرب کے لیے ٹرمپ کی نئی شرط

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے جاری ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ایرانی قیادت کے رویے میں تبدیلی آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ابھی تک ایران پر کسی نئے بڑے فوجی حملے کا فیصلہ نہیں کیا، کیونکہ ممکن ہے اب ایسی کارروائی کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔
ایران کا علاقائی اثر و رسوخ
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مشرق وسطیٰ میں ایران کا اثر و رسوخ بڑی حد تک ختم ہو چکا ہے اور اب تہران خطے کے لیے پہلے جیسا خطرہ یا دردِ سر نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے اشتعال انگیز بیانات کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے بلکہ ان کی توجہ عملی پیش رفت اور سفارتی مذاکرات پر مرکوز ہے۔ صدر ٹرمپ نے مذاکرات کی تفصیلات بیان کرنے سے گریز کیا، تاہم کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ رابطے میں ہے اور حالات پہلے کے مقابلے میں زیادہ مثبت سمت میں بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب رہیں تو خطے میں مزید فوجی کشیدگی سے بچا جا سکتا ہے، جیسے ماضی میں خلیجی ممالک نے آبنائے ہرمز کے متبادل سات آئل پائپ لائن منصوبے شروع کیے تھے تاکہ توانائی کی ترسیل کو محفوظ بنایا جا سکے۔
چین اور روس کا کردار
امریکی صدر نے عالمی سیاست پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ چین اور روس کی قیادت انہیں مایوس نہیں کرے گی اور دونوں طاقتیں مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے تعمیری کردار ادا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے عالمی مسائل کے حل کے لیے کثیر الجہتی تعاون کو ناگزیر قرار دیا۔
سعودی عرب کے ساتھ سول نیوکلیئر معاہدہ
گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول نیوکلیئر تعاون کے معاہدے کو بھی ابراہمی معاہدوں سے مشروط کر دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لاتے ہوئے ابراہمی معاہدے میں شامل نہیں ہوتا تو امریکہ اس کے ساتھ جوہری تعاون کا معاہدہ آگے نہیں بڑھائے گا۔ یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ خطے میں سعودی عرب میں جنرل ایجوکیشن قانون کی منظوری، تعلیمی اصلاحات کا آغاز کے بعد سے بڑے پیمانے پر معاشی و سماجی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ٹرمپ کے اس بیان کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ ایک روز قبل امریکی انتظامیہ نے سعودی عرب کے ساتھ سول نیوکلیئر تعاون کے حوالے سے پیش رفت کا اعلان کیا تھا، تاہم اب صدر نے اس کے ساتھ نئی سیاسی شرط عائد کر دی ہے، جس سے معاہدے کے مستقبل پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا ردعمل
سیاسی مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ ایک جانب ایران کے ساتھ سفارتی راستہ کھلا رکھنا چاہتی ہے، جبکہ دوسری جانب سعودی عرب پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے دباؤ بھی بڑھا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ دونوں معاملات مستقبل میں مشرق وسطیٰ کی سیاسی اور سلامتی کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ خطے میں معاشی استحکام کے لیے ایسے اقدامات اہم ہیں جیسے حال ہی میں امریکی تجارتی ٹیرف کے اثرات: پاکستان کے ڈالر بانڈز کی قدر میں گراوٹ جیسے مسائل بھی عالمی منڈیوں کو متاثر کر رہے ہیں۔
