لاہور چیمبر کا پالیسی ریٹ میں اضافے پر سخت تحفظات کا اظہار
لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (LCCI) کے نائب صدر چودھری خادم حسین نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی جانب سے پالیسی ریٹ میں 0.5 فیصد اضافے کے بعد شرح سود 12 فیصد ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ایف پی سی سی آئی نے اسٹیٹ بینک کی پالیسی ریٹ میں اضافے کو مسترد کر دیا ہے اور یہ اقدام کاروباری سرگرمیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔
اہم نکات
- اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں 0.5 فیصد اضافے سے شرح سود 12 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
- لاہور چیمبر آف کامرس کے مطابق بلند شرح سود سے صنعتی و تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔
- قرضوں کی لاگت میں اضافے سے پیداواری اخراجات بڑھیں گے اور نجی سرمایہ کاری میں کمی کا خدشہ ہے۔
- چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے سستے قرضوں کی فراہمی ناگزیر ہے۔
اپنے ایک بیان میں چودھری خادم حسین نے کہا کہ کاروباری آسانیوں کیلئے وفاقی اور صوبائی قوانین میں ہم آہنگی ناگزیر ہے، تاہم موجودہ مانیٹری پالیسی صنعتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ملکی صنعت پہلے ہی توانائی کے مہنگے نرخوں اور خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے۔
نائب صدر چودھری خادم حسین کا مزید کہنا تھا کہ پائیدار معاشی ترقی کے حصول کے لیے صنعتی پیداوار اور برآمدات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ انہوں نے حکومت اور اسٹیٹ بینک پر زور دیا کہ مانیٹری پالیسی کے اثرات کا جامع جائزہ لیا جائے اور نجی شعبے کی مشاورت کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ شرح سود میں کمی اور کاروبار دوست پالیسیوں سے ہی معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے، جس کے لیے پاکستان اور بحرین کا علاقائی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال، وزرائے خارجہ کا رابطہ جیسے اقدامات کی طرح معاشی فیصلوں میں شفافیت درکار ہے۔
اہم سوالات و جوابات
پالیسی ریٹ میں اضافے سے صنعتوں پر کیا اثر پڑے گا؟
پالیسی ریٹ میں اضافے سے کاروباری اداروں کے لیے مالی وسائل کا حصول مشکل ہو جائے گا، جس سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا اور سرمایہ کاری میں کمی کا خدشہ ہے۔
لاہور چیمبر آف کامرس نے حکومت کو کیا مشورہ دیا ہے؟
لاہور چیمبر نے حکومت اور اسٹیٹ بینک پر زور دیا ہے کہ مانیٹری پالیسی کے اثرات کا جائزہ لیں اور معاشی فیصلوں میں نجی شعبے کی تجاویز کو شامل کریں۔
