خلیجی ممالک نے آبنائے ہرمز کے متبادل سات آئل پائپ لائن منصوبے شروع
دبئی (نمائندہ خصوصی)۔ خلیجی ممالک نے آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کے لیے سات بڑے آئل پائپ لائن منصوبوں پر تیزی سے کام شروع کر دیا ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد تیل کی برآمدات کے لیے متبادل راستے فراہم کرنا، علاقائی توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جغرافیائی یا سکیورٹی بحران کی صورت میں عالمی منڈی کو بلا تعطل تیل کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ ماہرین کے مطابق حالیہ علاقائی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں شپنگ کے خطرات نے خلیجی ممالک کو اپنی برآمدی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے پر مجبور کیا ہے۔ پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ، نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد، توانائی کی قیمتوں اور ترسیل کے بحرانوں پر قابو پانا مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اسی تناظر میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور عراق سمیت متعدد ممالک نے نئی پائپ لائنوں اور موجودہ نیٹ ورک کی توسیع کے منصوبوں کو ترجیح دی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کے مکمل ہونے کے بعد 2027 کے اختتام تک تقریباً 38 لاکھ بیرل یومیہ اور 2028 کے آخر تک 73 لاکھ بیرل یومیہ خام تیل آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر عالمی منڈیوں تک پہنچایا جا سکے گا۔ یہ صلاحیت خلیجی ممالک کی جنگ سے پہلے کی مجموعی برآمدات کے تقریباً 60 فیصد کے برابر ہوگی۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تزویراتی اقدامات
سعودی عرب اپنے تاریخی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن منصوبے کی توسیع کر رہا ہے، جو مشرقی تیل کے ذخائر کو بحیرہ احمر کے ساحلی شہر ینبع سے جوڑتا ہے۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات حبشان۔فجیرہ پائپ لائن کی استعداد بڑھا رہا ہے تاکہ خام تیل براہ راست فجیرہ کی بندرگاہ سے برآمد کیا جا سکے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے کی ضرورت نہ رہے۔ ادھر عراق بھی اپنے جنوبی تیل کے ذخائر کو ترکی کے جیہان، شام کے بنیاس اور اردن کی عقبہ بندرگاہ سے ملانے کے لیے مختلف پائپ لائن منصوبوں پر کام کر رہا ہے تاکہ برآمدی راستوں میں تنوع پیدا کیا جا سکے۔
اقتصادی اثرات اور مستقبل کے چیلنجز
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں سے نہ صرف خلیجی ممالک کی توانائی کی سلامتی بہتر ہوگی بلکہ بحیرہ احمر اور افریقہ کے ساحلی علاقوں کی بندرگاہوں کی معاشی اہمیت بھی بڑھ جائے گی۔ تیل کی ترسیل میں اضافے سے بندرگاہوں، لاجسٹکس، شپنگ اور متعلقہ کاروبار میں نئی سرمایہ کاری اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ متبادل راستے مکمل طور پر آبنائے ہرمز کی جگہ نہیں لے سکتے۔ زیادہ لاگت، طویل سفری فاصلے، محدود گنجائش اور بحیرہ احمر میں موجود سکیورٹی خدشات بدستور اہم چیلنجز ہیں۔ اس کے باوجود خلیجی ممالک ان منصوبوں کو اپنی طویل المدتی توانائی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دے رہے ہیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی بحران کے دوران تیل کی برآمدات متاثر نہ ہوں۔
