فرائز لینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان کی آمدنی میں نمایاں اضافہ
کراچی (نمائندہ خصوصی)۔ فرائز لینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ نے 2026 کی تیسری سہ ماہی کے مالیاتی نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ کمپنی نے 2026 کے پہلے نو ماہ کے دوران گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں آمدنی میں 10.1 فیصد اضافہ حاصل کیا ہے۔ کمپنی کی آمدنی گزشتہ سال کے 80.2 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 88.4 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اس کارکردگی میں مصنوعات کے موزوں امتزاج، مارکیٹ میں مؤثر عمل درآمد پر توجہ، برانڈز میں منتخب سرمایہ کاری اور مارکیٹ تک رسائی کے بنیادی عوامل نے اہم کردار ادا کیا۔ بہتر کاروباری کارکردگی کے ساتھ خام مال کی فراہمی اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں جاری کارکردگی بہتر بنانے کے اقدامات کے نتیجے میں مجموعی منافع کی شرح میں 400 بیسس پوائنٹس کا اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں آپریٹنگ منافع میں 53.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اہم نکات
- فرائز لینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان کی آمدنی 80.2 ارب روپے سے بڑھ کر 88.4 ارب روپے تک پہنچ گئی۔
- کمپنی کے آپریٹنگ منافع میں گزشتہ سال کی نسبت 53.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
- مجموعی منافع کی شرح میں 400 بیسس پوائنٹس کی بہتری آئی ہے۔
- پیک شدہ دودھ پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی وجہ سے باضابطہ ڈیری سیکٹر کو چیلنجز کا سامنا ہے۔
پیک شدہ دودھ کی مارکیٹ اور ٹیکس چیلنجز
پیک شدہ دودھ کی مارکیٹ کو اب بھی غیر مساوی مسابقتی حالات کا سامنا ہے، جس کی بڑی وجہ جولائی 2024 میں یو ایچ ٹی (UHT) دودھ پر عائد کیا جانے والا 18 فیصد سیلز ٹیکس ہے۔ کھلا دودھ، جو اب بھی ٹیکس کے دائرے سے باہر ہے، قیمتوں کے فرق میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے، جس کے باعث باضابطہ ڈیری شعبے میں فروخت کا حجم متاثر ہو رہا ہے۔ کمپنی نے منصفانہ ٹیکس نظام کے لیے متعلقہ حکومتی حکام کے ساتھ فعال رابطے جاری رکھے، تاکہ عالمی معیارات سے ہم آہنگ مساوی ٹیکس نظام کی حمایت کی جا سکے۔ اس کاروباری آسانیوں کیلئے وفاقی اور صوبائی قوانین میں ہم آہنگی ناگزیر ہے، اور اس سلسلے میں موجودہ ٹیکس نظام کے مویشی پالنے والے کسانوں کے روزگار اور دستاویزی ڈیری معیشت پر منفی اثرات کو بھی اجاگر کیا گیا۔
معاشی دباؤ اور کاروباری ماحول
2026 کی تیسری سہ ماہی کے دوران علاقائی تنازعات نے کاروباری ماحول کے لیے مشکلات پیدا کرنا جاری رکھیں۔ مال برداری اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے پوری ویلیو چین کو متاثر کیا اور تیسری سہ ماہی کے دوران خام مال اور دیگر پیداواری اشیا کی لاگت پر دباؤ برقرار رکھا۔ ملکی سطح پر مہنگائی اور پالیسی ریٹ بھی گھریلو صارفین کی قوتِ خرید کو متاثر کرتے رہے۔ مجموعی طور پر ان عوامل کے باعث مصنوعات کی استطاعت اور طلب متاثر ہوتی رہی۔ جیسا کہ حال ہی میں ایف پی سی سی آئی نے اسٹیٹ بینک کی پالیسی ریٹ میں اضافے کو مسترد کر دیا تھا، ان معاشی حالات نے نجی شعبے کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ اپنی عالمی مہارت اور 150 سالہ ورثے سے استفادہ کرتے ہوئے، فرائز لینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ (FCEPL) صفائی ستھرائی، غذائی تحفظ اور پائیداری کے اعلیٰ ترین معیارات برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے اور کمپنی ہر روز پاکستان کے لاکھوں افراد کو محفوظ، قابلِ استطاعت اور غذائیت سے بھرپور ڈیری مصنوعات فراہم کرنے کے اپنے عزم پر بھی قائم ہے۔
