امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری تعاون کا تاریخی معاہدہ
واشنگٹن (نمائندہ خصوصی)۔ امریکہ اور سعودی عرب نے سول جوہری تعاون کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت سعودی عرب کو امریکی تعاون سے اپنے پرامن جوہری توانائی پروگرام کو آگے بڑھانے کا موقع ملے گا۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے درمیان توانائی اور تزویراتی تعاون میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سول جوہری توانائی میں امریکی تعاون
یہ معاہدہ، جسے "123 ایگریمنٹ" کہا جاتا ہے، سعودی عرب کو امریکی ٹیکنالوجی اور مہارت کی مدد سے جوہری توانائی کے منصوبے تیار کرنے کی راہ ہموار کرے گا۔ اس کا مقصد مملکت کی توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانا، بجلی کی پیداوار میں تیل پر انحصار کم کرنا اور طویل المدتی اقتصادی منصوبوں کو تقویت دینا ہے۔ جیسا کہ وزیراعظم کا روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کے لیے بڑے فنڈ کا اعلان ایک اہم پیش رفت ہے، اسی طرح یہ جوہری معاہدہ خطے میں ٹیکنالوجی کے نئے دور کا آغاز کرے گا۔
کانگریس میں منظوری اور حفاظتی اقدامات
یہ معاہدہ اب امریکی کانگریس میں 90 روزہ جائزے کے لیے پیش کیا جائے گا، جس کے بعد اس پر مکمل عملدرآمد ممکن ہوگا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ معاہدے میں جوہری ٹیکنالوجی کے محفوظ اور پرامن استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ضروری حفاظتی اقدامات شامل ہیں۔ اس حوالے سے بین الاقوامی سطح پر حکومت پاکستان کی جانب سے قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق 2026 کا اجراء جیسے اقدامات کی طرح یہ جوہری معاہدہ بھی سخت ضوابط کے تحت ہوگا۔
جیو پولیٹیکل اثرات اور خطے کی صورتحال
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے اور خطے میں توانائی، سلامتی اور جغرافیائی سیاست پر دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ تاہم بعض ناقدین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یورینیم افزودگی کی اجازت مشرقِ وسطیٰ میں جوہری پھیلاؤ کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے۔ جس طرح محمد حنیف عباسی اور ایرانی وزیر داخلہ کی اہم ملاقات خطے کے امن کے لیے اہمیت رکھتی ہے، اسی طرح اس معاہدے کے اثرات کا جائزہ بھی عالمی برادری کی نظروں میں ہے۔
