سخت لاک ڈاؤن اور اوقات کار میں کمی تاجر برادری مسترد
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ آل پاکستان انجمن تاجران اور ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد کے صدر اجمل بلوچ، سیکرٹری و چیئرمین ٹریڈرز اینڈ مارکیٹ ڈیویلپمنٹ کمیٹی آئی سی سی آئی خالد چوہدری، چیئر مین مرکز کے صدر میاں کامران کاکا خیل، آئی ایٹ مرکز کے صدر وحید چیمہ، ایف ٹین مرکز کے صدر احمد خان، سپر مارکیٹ کے صدر شہزاد عباسی، ایف ایٹ مرکز کے صدر اسمعیل خان، ستارہ مارکیٹ کے صدر الطاف شاہ، جناح سپر مارکیٹ کے جنرل سیکرٹری اور سابق سینئر نائب صدر آئی سی سی آئی عبدالرحمان صدیقی، جی ٹین آئی اینڈ ٹی کے صدر چوہدری ظفر گجر، ایف الیون مرکز کے صدر مہر اللہ داد، پی ڈبلیو ڈی کے صدر چوہدری ریاست علی، جی ایٹ مرکز کے جنرل سیکرٹری وسیم عباسی، کراچی کمپنی کے صدر راجہ ذو الفقار، جنرل سیکرٹری شاہد عباسی اور آب پارہ مارکیٹ کے جنرل سیکرٹری اختر عباسی نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کا طوفان برپا ہے، جس نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔
عوامی قوت خرید اور حکومتی پالیسیوں پر تشویش
رہنماؤں نے کہا کہ عام استعمال کی اشیاء اب غریب عوام کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ حکومت نے گزشتہ روز عندیہ دیا کہ پیٹرول کی قیمت کا تعین اوگرا روزانہ کی بنیاد پر کرے گا، جبکہ اوگرا میں ممبران کی اکثریت آئل کمپنیوں سے تعلق رکھتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عوام کی قسمت کا فیصلہ آئل کمپنیوں کے ہاتھوں میں دے دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وزیراعظم آفس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید نظام کا افتتاح جیسے اقدامات کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام پر بھی توجہ دے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
کاروباری بندش معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہوگی
تاجر رہنماؤں نے متنبہ کیا کہ حکومتی حلقوں کی جانب سے سخت لاک ڈاؤن اور کاروباری اوقات میں کمی کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی حالات بالخصوص امریکہ ایران جنگ کے تناظر میں پہلے ہی کاروبار سکڑ چکے ہیں اور عوام کی قوت خرید ختم ہو چکی ہے۔ مزید سخت لاک ڈاؤن یا ورکنگ ٹائم میں کمی ملکی معیشت کی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ پاکستان کا عالمی بانڈز اور سکوک پروگرام کیلئے بین الاقوامی کنسورشیم کا اعلان جیسے امور پر توجہ دے تاکہ سرمایہ کاری کا ماحول بہتر ہو۔
احتجاج اور شٹر ڈاؤن کی دھمکی
اجمل بلوچ اور دیگر عہدیداران نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ تاجر برادری کسی بھی ایسے اقدام کو مسترد کرتی ہے جو ان کے کاروبار کو مزید متاثر کرے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر حکومت نے تاجر کش فیصلے واپس نہ لیے تو ملک گیر سطح پر احتجاج اور شٹر ڈاؤن کی کال دی جا سکتی ہے۔ حکومت کو مشورہ دیا گیا کہ وہ ایسے فیصلے کرنے سے اجتناب کرے جو پہلے سے مشکلات میں گھرے تاجروں کے لیے مزید مسائل پیدا کریں۔ اس ضمن میں قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کی عدالتی اصلاحات کے فریم ورک منظوری کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے تاکہ کاروباری برادری کے قانونی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
