وزیراعظم آفس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید نظام کا افتتاح
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وزیراعظم آفس میں مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید پرائم منسٹر آفس سسٹم (PMOS) کا افتتاح کر دیا، جس کا مقصد حکومتی فیصلوں، وزیراعظم کی ہدایات اور ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کی نگرانی کو جدید، شفاف اور تیز رفتار بنانا ہے۔ یہ پیشرفت پاکستان میں ٹیکنالوجی کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے مراکز کو پانی کی شدید قلت کا سامنا جیسے چیلنجز کے باوجود حکومتی کارکردگی کو بہتر بنانے کی ایک کوشش ہے۔
مصنوعی ذہانت سے حکومتی امور کی ڈیجیٹلائزیشن
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آج کے بعد وزیراعظم آفس میں روایتی فائل سسٹم ختم کر دیا جائے اور تمام وزارتیں و سرکاری ادارے اس جدید ڈیجیٹل نظام کے تحت اپنے امور انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت، شفافیت اور مؤثر حکمرانی کے لیے پیپر لیس نظام کا مکمل نفاذ وقت کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے اس جدید نظام کی تیاری پر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احد خان چیمہ، وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے حکومتی فیصلوں پر بروقت عملدرآمد، کارکردگی کی نگرانی اور اداروں کی جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ جس طرح پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کیلئے اہم مفاہمتی یادداشت طے پائی ہے، اسی طرح یہ ڈیجیٹل تبدیلی بھی مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔
خودکار نگرانی اور شفافیت کا نیا دور
تقریب کے دوران وفاقی وزیر احد خان چیمہ نے کہا کہ یہ نظام ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر جدید طرز حکمرانی کو فروغ دے گا، جبکہ وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ حکومت ڈیجیٹل گورننس سے آگے بڑھتے ہوئے اب اے آئی پر مبنی نظام کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم آفس سسٹم پاکستان کا پہلا سرکاری اے آئی سے چلنے والا گورننس پلیٹ فارم ہے، جو احکامات کے اجرا سے لے کر ان پر عملدرآمد، پیشرفت، ڈیڈ لائنز اور نگرانی تک تمام مراحل کو خودکار بنائے گا۔ ایس ای سی پی کی تصدیق انفارمیشن سروسز کے آئی پی او کی منظوری کے عمل کی طرح، حکومتی منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار بھی اس نظام کے ذریعے مزید مؤثر اور قابلِ نگرانی ہو جائے گی۔ حکام کے مطابق اس نظام سے وزارتوں کی کارکردگی، شفافیت، خود احتسابی اور فیصلہ سازی کے عمل میں بہتری آئے گی۔
