مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 21°C
منگل، 27 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.81 EUR/PKR 309.66 GBP/PKR 369.47 سونا/تولہ (عالمی) 417,826 PKR Bitcoin $80,113 USD/PKR 276.81 EUR/PKR 309.66 GBP/PKR 369.47 سونا/تولہ (عالمی) 417,826 PKR Bitcoin $80,113
قومی

پاکستان چین کی قیادت میں عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم کا رکن

📅 ✍️ ⏱ 4 منٹ
نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار سینیٹ میں عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم میں پاکستان کی شمولیت پر بریفنگ دے رہے ہیں۔
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے منگل کو سینیٹ کو آگاہ کیا ہے کہ پاکستان چین کی قیادت میں قائم ہونے والی عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم (ورلڈ اے آئی کوآپریشن آرگنائزیشن۔ WACO) میں شامل ہو گیا ہے، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے شعبے میں شفافیت، کشادگی اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس تنظیم میں تقریباً 50 ارکان شامل ہو چکے ہیں جبکہ پاکستان نے بھی اس کی تاسیسی دستاویز پر دستخط کر دیے ہیں۔

پاکستان کی عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم میں شمولیت کے اہم نکات

  • پاکستان نے چین کی قیادت میں قائم ہونے والی عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم (WACO) میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔
  • تنظیم کا صدر دفتر چین کے شہر شنگھائی میں قائم ہوگا اور اس کے پہلے کونسل اجلاس کا انعقاد دسمبر کے وسط میں متوقع ہے۔
  • حکومت نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال اور سائبر جرائم کی روک تھام کے لیے کوشاں ہے۔
  • نیشنل اے آئی ایڈوانسمنٹ انیشی ایٹو اور وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے ذریعے قومی مصنوعی ذہانت پالیسی پر عمل درآمد جاری ہے۔

عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم اور پاکستان کا کردار

اسحاق ڈار نے مزید بتایا کہ تنظیم کا صدر دفتر چین کے شہر شنگھائی میں قائم ہوگا اور اس کے پہلے کونسل اجلاس کا انعقاد دسمبر کے وسط میں متوقع ہے۔ دریں اثنا، وقفہ سوالات کے دوران ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ حکومت قومی مصنوعی ذہانت پالیسی پر عمل درآمد کے لیے نیشنل اے آئی ایڈوانسمنٹ انیشی ایٹو اور وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے ذریعے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔

مصنوعی ذہانت کے چیلنجز اور حکومتی ردعمل

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تربیت اور استعداد کار بڑھانے کے پروگرام جاری ہیں، جبکہ وظائف سے متعلق مزید تفصیلات متعلقہ سینیٹر کو فراہم کی جائیں گی۔ مصنوعی ذہانت اور سوشل میڈیا کے حوالے سے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہی ہے اور پاکستان اس سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے ممکنہ منفی اثرات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس ٹیکنالوجی کے غلط استعمال، جعلی خبروں، پروپیگنڈے، دھوکہ دہی اور بلیک میلنگ کی روک تھام کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سائبر جرائم سے متعلق بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے اور قانونی کارروائی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سابق سائبر کرائم ونگ کی جگہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) قائم کی گئی ہے، جو ٹیکنالوجی کے دور میں شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنائے گی۔

اہم سوالات و جوابات

پاکستان کس عالمی تنظیم کا حصہ بنا ہے؟

پاکستان چین کی قیادت میں قائم ہونے والی عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم (WACO) میں شامل ہو گیا ہے جس کا مقصد مصنوعی ذہانت میں شفافیت اور تعاون کو فروغ دینا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے کیا کیا جا رہا ہے؟

حکومت جعلی خبروں اور سائبر جرائم کی روک تھام کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے بجائے اب نئی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے ذریعے اقدامات کر رہی ہے۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں