مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
پیر، 12 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.21 EUR/PKR 310.55 GBP/PKR 366.87 سونا/تولہ 434,717 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $83,781 USD/PKR 277.21 EUR/PKR 310.55 GBP/PKR 366.87 سونا/تولہ 434,717 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $83,781
قومی

ایف آئی اے نے کرپٹو کرنسی جرائم کی تحقیقات کیلئے خصوصی یونٹ قائم

📅 منگل، 21 جولائی 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
ایف آئی اے نے کرپٹو کرنسی جرائم کی تحقیقات کیلئے خصوصی یونٹ قائم
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے کرپٹو کرنسی اور دیگر ورچوئل ڈیجیٹل اثاثوں کے ذریعے ہونے والے مالیاتی جرائم کی روک تھام کے لیے ایک خصوصی ‘کرپٹو کرنسی انویسٹی گیشن یونٹ’ قائم کر دیا ہے۔ یہ یونٹ ایف آئی اے کے نئے قائم کردہ ‘نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (NC3)’ کے تحت کام کرے گا اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت، فراڈ اور دیگر سنگین جرائم کی تحقیقات کرے گا۔

کرپٹو کرنسی کے مجرمانہ استعمال کی روک تھام

ایف آئی اے کے انسداد دہشت گردی ونگ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد اطہر وحید نے بتایا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی ریگولیشن کی ذمہ داری ‘پاکستان ورچوئل ایسیٹس ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA)’ کے سپرد ہوگی، جبکہ ایف آئی اے کا نیا یونٹ ان اثاثوں کے مجرمانہ استعمال سے متعلق تحقیقات انجام دے گا۔ انہوں نے تجویز دی کہ حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی درآمد کیلئے پی ایس او کو نامزد کر دیا ہے اور اسی طرح ‘نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA)’ اور ‘اینٹی نارکوٹکس فورس (ANF)’ کو بھی اسی نوعیت کے خصوصی یونٹس قائم کرنے چاہئیں تاکہ سائبر جرائم اور منشیات کی غیر قانونی تجارت میں کرپٹو کرنسی کے استعمال کی مؤثر نگرانی کی جا سکے۔ ڈاکٹر محمد اطہر وحید نے کہا کہ ایف آئی اے میں جاری اصلاحاتی عمل کے تحت متعدد جدید منصوبوں پر کام جاری ہے اور آئندہ چھ ماہ کے دوران ادارے کی استعداد کار میں مزید بہتری لانے کے لیے کئی نئے اقدامات مکمل کیے جائیں گے۔

ادارے میں اصلاحات اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال

ان کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایات پر ایف آئی اے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور اس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے جامع اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ‘نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر’ ایک مربوط آپریشنل پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا، جہاں بحیرۂ احمر میں کشیدگی، حوثیوں کی دھمکی کے بعد انشورنس اخراجات میں اضافہ جیسے عالمی معاشی رجحانات اور دیگر حساس امور کے ساتھ امیگریشن مانیٹرنگ، بارڈر مینجمنٹ، انٹیلی جنس شیئرنگ، انسانی اسمگلنگ، منی لانڈرنگ، انٹرپول رابطوں، کیس مینجمنٹ، سائبر پٹرولنگ، اوپن سورس انٹیلی جنس اور ڈارک ویب تحقیقات سمیت مختلف شعبوں کو ایک ہی نظام کے تحت مربوط کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق گزشتہ دو برسوں کے دوران انسانی اسمگلنگ کے 300 سے زائد مقدمات درج کیے گئے، 258 انسانی اسمگلروں کو گرفتار کیا گیا اور متعدد منظم نیٹ ورکس کا خاتمہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں غیر قانونی انسانی اسمگلنگ اور کشتی حادثات کے واقعات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس کے علاوہ، امریکی جامعات میں غیر ملکی طلبہ کی داخلہ درخواستوں میں نمایاں کمی جیسے دیگر اہم عالمی موضوعات پر بھی ادارہ اپنی ڈیجیٹل نگرانی کو مزید مستحکم کر رہا ہے۔

ٹیگز: #پاکستان #سائبر کرائم #محسن نقوی
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں