مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
پیر، 12 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.21 EUR/PKR 310.55 GBP/PKR 366.87 سونا/تولہ 437,295 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $83,743 USD/PKR 277.21 EUR/PKR 310.55 GBP/PKR 366.87 سونا/تولہ 437,295 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $83,743
قومی

خیبر پختونخوا کی تقسیم کا کوئی منصوبہ نہیں، امن و امان کی بحالی اولین ترجیح ہے، محسن نقوی

📅 اتوار، 11 اکتوبر 2026 ✍️ Dost news ⏱ 3 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

*خیبر پختونخوا کی تقسیم کا کوئی منصوبہ نہیں، امن و امان کی بحالی اولین ترجیح ہے، محسن نقوی*

اسلام آباد، 11 اکتوبر (اے پی پی): وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا میں نئے انتظامی یونٹ کے قیام اور صوبے کی تقسیم سے متعلق تاثر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صوبے میں نہ کوئی نیا انتظامی یونٹ بنایا جا رہا ہے اور نہ ہی تقسیم کا کوئی منصوبہ ہے۔ حکومت کی اولین ترجیح صوبے میں امن و امان کی بحالی اور معمولات زندگی کو معمول پر لانا ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے تحت جنوبی پنجاب ماڈل کی طرز پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کو گورنر اور چیف سیکرٹری کے ماتحت ایک مخصوص سیکرٹریٹ فراہم کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع اس وقت حالت جنگ میں ہیں، جہاں خصوصی توجہ، اضافی فنڈنگ، بہتر انتظامی اقدامات اور امن و امان کی فوری بحالی ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت حالات معمول پر لانے کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گی۔

وفاقی وزیر داخلہ نے احتجاج کرنے والے جتھوں کو فوری طور پر منتشر ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر متعلقہ افراد کو حفاظتی تحویل میں لینے کے علاوہ گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جائیں گی اور قانون کے مطابق مکمل کارروائی ہوگی۔

محسن نقوی نے کہا کہ احتجاج کرنے والوں کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ فوری طور پر منتشر ہو جائیں، کیونکہ اب انہیں کوئی صوبائی تحفظ حاصل نہیں رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے اپنے اقدامات کے نتائج کے خود ذمہ دار ہوں گے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت کی تمام تر توجہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بحالی اور شہریوں کی زندگی معمول پر لانے پر مرکوز ہے۔

SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں