خیبر پختونخوا ایڈوائزری کونسل تشکیل، 11 ارکان کو مختلف محکموں کی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں، 12 اضلاع کے لیے الگ سیکریٹریٹ قائم

خیبر پختونخوا ایڈوائزری کونسل تشکیل، 11 ارکان کو مختلف محکموں کی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں، 12 اضلاع کے لیے الگ سیکریٹریٹ قائم
اسلام آباد، 11 اکتوبر: خیبر پختونخوا میں نئے انتظامی بندوبست کے تحت 11 رکنی ایڈوائزری کونسل تشکیل دے دی گئی ہے، جس میں مختلف شعبوں کے تجربہ کار افراد کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ کونسل گورنر خیبر پختونخوا کو متعلقہ محکموں کے امور میں مشاورت فراہم کرے گی، جبکہ صوبے کے 12 اضلاع کے انتظامی معاملات کے لیے گورنر اور چیف سیکریٹری کے ماتحت الگ سیکریٹریٹ بھی قائم کیا گیا ہے۔
ایڈوائزری کونسل میں کفایت اللہ خان کو داخلہ و قبائلی امور، طارق محمود پاشا کو خزانہ، محصولات، ایکسائز و ٹیکسیشن، عامر جاوید کو قانون و پارلیمانی امور، ڈاکٹر سید عامر عبداللہ کو تعلیم، ڈاکٹر سرفراز علی شاہ کو معدنیات، ڈاکٹر محمد ارشاد کو صنعت و تجارت، آصف رفیق آفریدی کو مواصلات و تعمیرات، بلدیات، ہاؤسنگ و ٹرانسپورٹ، مولانا محمد طیب قریشی کو اوقاف و مذہبی امور، لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر خان کو صحت، عثمان سیف اللہ خان کو توانائی و بجلی اور ثمر ہارون بلور کو اطلاعات و نشریات کے شعبوں کی ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔
کونسل میں سابق اعلیٰ سرکاری افسران، قانونی ماہرین، ماہرینِ تعلیم، کاروباری شخصیات اور مختلف شعبوں میں تجربہ رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ کونسل کے ارکان اپنے متعلقہ شعبوں کے انتظامی معاملات میں گورنر کو مشاورت فراہم کریں گے اور سرکاری خدمات کی بہتری، پالیسی سازی اور حکومتی امور کی انجام دہی کے لیے تجاویز دیں گے۔
وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ کے مطابق خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع کے انتظامی امور چلانے کے لیے گورنر اور چیف سیکریٹری کے ماتحت الگ سیکریٹریٹ قائم کیا گیا ہے۔ ان اضلاع کے معاملات نئے انتظامی طریقہ کار کے تحت چلائے جائیں گے، جبکہ ان علاقوں میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے اور ترقیاتی سرگرمیوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔
حکومتی اعلان کے مطابق ان اضلاع میں تعمیرِ نو اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایریا ری کنسٹرکشن اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل بھی کام کرے گی۔ اس انتظام کے تحت ایڈیشنل چیف سیکریٹری کے عہدے کا افسر بطور منتظم ذمہ داریاں ادا کرے گا، جو انتظامی رابطہ کاری، ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون کو یقینی بنانے میں کردار ادا کرے گا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ نئے انتظامی ڈھانچے کا مقصد متاثرہ علاقوں میں امن و امان کی بحالی، انتظامی معاملات میں بہتری اور ترقیاتی سرگرمیوں کو مؤثر بنانا ہے۔ تاہم، اس بندوبست کی عملی صورت، متعلقہ حکام کے اختیارات اور انتظامی اقدامات کی تفصیلات سرکاری نوٹیفکیشن اور آئینی و قانونی طریقہ کار کے مطابق واضح ہوں گی۔
