خیبر پختونخوا میں امن کے قیام کیلئے پاک فوج تعینات

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی حکومت نے صوبہ خیبر پختونخوا میں جاری کشیدہ حالات کو کنٹرول کرنے اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت پاک فوج کی تعیناتی کا باضابطہ حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد صوبے میں شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا اور سول انتظامیہ کی معاونت کرنا ہے۔ جیسا کہ اس سے قبل خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، اب فوج کی موجودگی سے سکیورٹی صورتحال میں مزید بہتری کی امید کی جا رہی ہے۔
آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی ذمہ داریاں
جاری کیے گئے حکم نامے کے مطابق، پاک فوج کی یہ تعیناتی آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت نافذ کردہ اعلانات کی مدت کے لیے مؤثر رہے گی۔ فوج سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر امن و امان برقرار رکھنے، اہم سرکاری تنصیبات کی حفاظت اور دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ اس پیش رفت کو خیبر پختونخوا کی تقسیم کا کوئی منصوبہ نہیں، امن و امان کی بحالی اولین ترجیح ہے، محسن نقوی کے بیان کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جس میں وفاقی حکومت نے صوبے میں امن کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا ہے۔
تعیناتی کا طریقہ کار اور مشاورت
حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے گورنر، جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کے ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کے ساتھ قریبی مشاورت کریں گے۔ اس مشاورت کے ذریعے صوبے بھر میں تعینات کیے جانے والے فوجی دستوں کی تعداد اور ان کے لیے درکار وسائل کا تعین کیا جائے گا۔ اس سے قبل صوبائی بیوروکریسی میں ہونے والے ردوبدل کے بعد، جس میں خیبر پختونخوا میں بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر ردوبدل، چیف سیکرٹری شہاب علی سمیت 4 افسران کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا تھا، انتظامی ڈھانچے کو مزید فعال بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔
