مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
پیر، 12 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.21 EUR/PKR 310.55 GBP/PKR 366.87 سونا/تولہ 437,295 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $83,743 USD/PKR 277.21 EUR/PKR 310.55 GBP/PKR 366.87 سونا/تولہ 437,295 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $83,743
قومی

خیبر پختونخوا میں گورنر کی زیر صدارت 11 رکنی مشاورتی کونسل تشکیل

📅 اتوار، 11 اکتوبر 2026 ✍️ Dost news ⏱ 7 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ خیبر پختونخوا میں گورنر کی سربراہی میں 11 رکنی ایڈوائزری کونسل تشکیل دے دی گئی ہے، جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات شامل ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے اتوار کو وفاقی وزراء محسن نقوی، اعظم نذیر تارڑ، طلال چوہدری اور رکن قومی اسمبلی ثمر ہارون بلور کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران ایڈوائزری کونسل کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ گورنر خیبر پختونخوا کی زیر قیادت ایڈوائزری کونسل میں اہل اور ایماندار افسران کو ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کفایت اللہ خان کو مشیر داخلہ، طارق محمود پاشا کو مشیر فنانس، سابق ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا عامر جاوید کو مشیر قانون، ڈاکٹر سید عامر عبداللہ کو مشیر تعلیم، پاکستان کی پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر خان کو مشیر صحت، سابق ایڈوائزر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈاکٹر سرفراز علی شاہ کو مشیر مائنز اینڈ منرلز، ڈاکٹر محمد ارشاد کو مشیر انڈسٹریز اینڈ کامرس، آصف رفیق آفریدی کو مشیر برائے کمیونیکیشن اینڈ ورکس، خطیب اعلیٰ مولانا محمد طیب قریشی کو مذہبی امور کا مشیر، عثمان سیف اللہ خان کو مشیر برائے انرجی اور ایم این اے ثمر ہارون بلور کو مشیر برائے اطلاعات و نشریات مقرر کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان نئے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا تعینات ہو چکے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی آئی کے تانے بانے دہشت گردوں سے جا ملتے ہیں، پی ٹی آئی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے بالکل غیر سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کا دہشت گردوں کے ساتھ گہرا گٹھ جوڑ ہے جس کی وجہ سے صوبے کے انتظامی حالات تباہی کے دھانے پر پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس بیورو اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رپورٹس میں صوبے کی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سوا تمام سیاسی جماعتوں پر خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے حملے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں اور پی ٹی آئی کے درمیان پاور شیئرنگ تک بات پہنچ چکی تھی۔ دہشت گردوں کو صوبے میں محفوظ رسائی حاصل تھی اور انہیں مالی وسائل بھی فراہم کئے جاتے رہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی آئینی ذمہ داری تھی کہ وہ عام شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بناتی۔ سوال یہ ہے کہ کیا صوبائی حکومت اپنی یہ آئینی ذمہ داری ادا نہیں کر سکتی؟ کیا اس میں اہلیت اور صلاحیت کا فقدان ہے۔

انہوں نے کہا کہ جن عناصر نے صوبے کا امن تباہ کیا، شہریوں کو شہید کیا اور ہسپتالوں، مساجد، تھانوں اور افواج کے اہلکاروں کو دہشت گردی کے حملوں کا نشانہ بنایا، خیبر پختونخوا حکومت نے انہی عناصر کو بااختیار بنایا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشت گردوں اور خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے درمیان اختیارات کی تقسیم کا ایک فارمولا تشکیل پا رہا تھا جس کا آغاز جنوبی اضلاع سے ہوا اور جو بتدریج پورے صوبے میں پھیلتا جا رہا تھا۔

واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر ردوبدل، چیف سیکرٹری شہاب علی سمیت 4 افسران کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کا حکم پہلے ہی دیا جا چکا ہے۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ وہ کوہاٹ کے ہسپتال میں موجود تھے جہاں زخمیوں نے ان سے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت سے جان چھڑائیں، یہ ہمیں تباہ و برباد کر دیں گے، ہم دہشت گردوں کے خلاف لڑنا چاہتے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سمجھ نہیں آتی کہ صوبے میں دہشت گردوں کو فری ہینڈ کیوں دیا گیا۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ امن و امان، تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانا صوبائی حکومت کی ذمہ داری تھی۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے نہ صرف دہشت گردوں کی سہولت کاری کی بلکہ انہیں صوبائی انتظامیہ میں شراکت دار بھی بنایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ طالبان بیرونی طاقتوں کے فنڈز سے چلنے والے عناصر ہیں جو پاکستان کو تباہی کے دھانے پر لے جانا چاہتے ہیں۔ اگر کوئی بیرونی فنڈنگ حاصل کر کے ہمارے شہریوں کو شہید کرے تو اس سے بڑا آئینی بحران اور کیا ہو سکتا ہے؟

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ صوبائی حکومت کا مینڈیٹ عوام کے تحفظ، سلامتی اور امن و امان کو یقینی بنانا تھا لیکن اس کے برعکس اس نے پولیس سے متعلق ایک متنازعہ بل بھی پیش کیا جس کے ذریعے دہشت گرد گروہوں سے وابستہ افراد کو پولیس میں بھرتی کرنے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کو بتدریج تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا تھا اور اس حوالے سے ناقابلِ تردید شواہد اور ثبوت موجود ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج، وفاقی کابینہ نے منظوری دے دی تھی جس کے بعد انتظامی امور میں بڑی تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے خیبر پختونخوا کابینہ کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پوری کابینہ کی کارکردگی کا جائزہ لے لیں، یہ شاید ٹاک شوز میں نظر آتے ہوں لیکن وزیراعلیٰ نے کیا کیا؟ انہوں نے گورننس پر کتنے گھنٹے صرف کیے؟ کیا انہیں گورننس کے تقاضوں کا علم ہے اور کیا وہ جانتے ہیں کہ حکومت کیسے چلائی جاتی ہے اور صوبے کے عوام کو خوشحالی کی طرف کیسے لے جایا جاتا ہے؟ وفاقی وزیر نے کہا کہ آج اس گروہ سے نجات حاصل ہوئی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو آئینی طریقے سے ہٹایا گیا، پی ٹی آئی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور کالعدم تحریک طالبان افغانستان (ٹی ٹی اے) کی حمایت پر مبنی پالیسیوں کی وجہ سے خیبر پختونخوا میں ہزاروں شہریوں کی ہلاکت کی ذمہ دار ہے۔ طالبان کی خواتین سے متعلق پالیسیوں کی جھلک خیبر پختونخو میں پی ٹی آئی کی حکومت کے طرز عمل میں بھی نظر آتی رہی جہاں خواتین کے حقوق پامال کئے جاتے رہے۔

ٹیگز: #ایڈوائزری کونسل #پی ٹی آئی #خیبر پختونخوا #عطاء اللہ تارڑ #گورنر
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں