خیبر پختونخوا بار کونسل کا مالاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کیخلاف احتجاج
پشاور (نمائندہ خصوصی)۔ خیبر پختونخوا بار کونسل نے وفاقی حکومت کی جانب سے مالاکنڈ ڈویژن میں وفاقی ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف 21 جولائی 2026ء سے احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ بار کونسل کے ایک اہم اجلاس میں کیا گیا جس میں خطے کی تاریخی اور آئینی حیثیت کے تحفظ پر زور دیا گیا۔
مالاکنڈ ڈویژن میں عدالتی بائیکاٹ اور احتجاج
چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی خیبر پختونخوا بار کونسل نواز خان عادل کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق، بار کونسل نے مالاکنڈ ڈویژن میں وکلاء کی جدوجہد کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق 21 جولائی سے مالاکنڈ ڈویژن کی تمام ضلعی اور تحصیل بار ایسوسی ایشنز عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کریں گی۔ اس احتجاجی مہم کے دوران احتجاجی کیمپ قائم کیے جائیں گے، ریلیاں نکالی جائیں گی اور عوام میں وفاقی ٹیکسوں کے نفاذ کے مضر اثرات کے بارے میں آگاہی مہم چلائی جائے گی۔ بار کونسل نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اسلام آباد میں صحت کی سہولیات کی فراہمی کی طرح خطے کے معاشی حقوق کا تحفظ بھی ناگزیر ہے۔
قرارداد اور مطالبات
خیبر پختونخوا بار کونسل کی جنرل باڈی نے اپنے اجلاس میں فیصل یوسفزئی ایڈووکیٹ، فواد احمد خان ایڈووکیٹ، عنایت اللہ خان ایڈووکیٹ، اکرام حسین ایڈووکیٹ اور سید حکیم خان ایڈووکیٹ کی جانب سے پیش کردہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ مالاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کا نفاذ خطے کی آئینی و قانونی حیثیت کے منافی ہے۔ بار کونسل کا کہنا ہے کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف کی ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت کے تناظر میں خطے کی ترقی چاہتی ہے نہ کہ ٹیکسوں کا بوجھ۔ بار کونسل نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ٹیکسوں کے نفاذ کے اقدامات واپس لے۔
عوام اور تاجر برادری سے اظہارِ یکجہتی
بار کونسل نے اعلان کیا کہ یہ ہڑتال مالاکنڈ ڈویژن کے عوام، تاجر برادری، ٹریڈ یونینز اور دیگر طبقات کی جانب سے دی گئی کال کے ساتھ یکجہتی کے طور پر کی جا رہی ہے۔ اس سے قبل وفاقی حکومت نے دیگر علاقوں میں بھی اپنی پالیسیوں کا اعلان کیا تھا، جیسا کہ ایران کو نہ دھمکی دی جا سکتی ہے، نہ لالچ: عباس عراقچی کے بیان سے پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد ملکی معاشی صورتحال پر بحث جاری ہے۔ بار کونسل نے زور دیا کہ حکومت ٹیکسوں کے بجائے صنعتوں کے فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کرے۔ آخر میں بار کونسل نے تمام وکلاء پر زور دیا کہ وہ اس احتجاجی تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے اتحاد اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں۔
