افریقہ کے گھنے جنگلات میں بندروں کی نئی نسل دریافت سائنسدانوں نے اہم سائنسی پیش رفت قرار دے دی
تحریر: محمد خالد
*افریقہ کے گھنے جنگلات میں بندروں کی نئی نسل دریافت، سائنسدانوں نے اہم سائنسی پیش رفت قرار دے دی*
*نمائندہ خصوصی*
*کنشاسا:* افریقی ملک جمہوریہ کانگو کے گھنے بارشی جنگلات سے جنگلی حیات کے حوالے سے ایک اہم سائنسی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ماہرینِ حیاتیات نے بندروں کی ایک نئی نسل کی شناخت کا اعلان کیا ہے۔ محققین کے مطابق کئی سالہ تحقیق، ڈی این اے تجزیے، جسمانی ساخت کے مطالعے اور قدرتی ماحول میں مشاہدے کے بعد اس نوع کو سائنسی طور پر ایک الگ اور منفرد نسل قرار دیا گیا ہے۔
بین الاقوامی سائنسی ٹیم کے مطابق یہ دریافت جمہوریہ کانگو کے وسیع بارشی جنگلات میں کی گئی، جو ایمیزون کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا برساتی جنگلاتی نظام شمار ہوتا ہے۔ یہ علاقہ حیاتیاتی تنوع کے اعتبار سے دنیا کے اہم ترین خطوں میں شامل ہے، جہاں آج بھی متعدد جانور اور پودے ایسے موجود ہیں جن کے بارے میں سائنسی معلومات محدود ہیں۔
تحقیق میں شامل ماہرین نے بتایا کہ نئی نسل کی شناخت ایک طویل تحقیقی عمل کے بعد ممکن ہوئی۔ ابتدائی طور پر کیمرا ٹریپس، جنگلات میں براہِ راست مشاہدے اور مقامی آبادی سے حاصل ہونے والی معلومات نے اس جانور کی موجودگی کی نشاندہی کی۔ بعد ازاں مختلف نمونوں کا جینیاتی تجزیہ، جسمانی خصوصیات کا تقابلی مطالعہ اور رویے کا جائزہ لینے کے بعد اس بات کی تصدیق کی گئی کہ یہ بندر پہلے سے معلوم کسی بھی نسل سے مختلف ہے۔
ماہرین کے مطابق اس نئی نسل کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا چہرہ اور آنکھیں ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ اس بندر کی بڑی، گول اور گہرے بھورے رنگ کی آنکھیں غیر معمولی تاثرات رکھتی ہیں، جنہیں کئی محققین نے انسانی چہرے کے تاثرات سے مشابہ قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ چہرے کے گرد ہلکے سنہری اور سرمئی رنگ کے بال، درمیانے قد کا جسم اور نسبتاً لمبی دم اسے دیگر قریبی نسلوں سے ممتاز بناتی ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ بندر نہایت محتاط اور شرمیلا مزاج رکھتا ہے۔ یہ زیادہ تر جنگل کے نچلے حصوں اور گھنی جھاڑیوں میں رہنا پسند کرتا ہے اور معمولی سی آہٹ محسوس ہوتے ہی نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ اسی رویے کی وجہ سے یہ نسل طویل عرصے تک جدید سائنسی تحقیق کی نظروں سے چھپی رہی۔
تحقیقی ٹیم نے یہ بھی انکشاف کیا کہ مقامی قبائل اس جانور سے پہلے ہی واقف تھے اور اپنی زبان میں اسے ایک مخصوص نام سے پکارتے تھے، تاہم سائنسی دنیا میں اس کا کوئی باضابطہ ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ جینیاتی تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ نسل لاکھوں سال قبل اپنے قریبی ارتقائی رشتہ داروں سے الگ ہو گئی تھی، جس کے باعث اس میں منفرد جسمانی اور حیاتیاتی خصوصیات پیدا ہوئیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت صرف ایک نئی نسل کی شناخت نہیں بلکہ افریقہ کے بارشی جنگلات کی حیاتیاتی اہمیت کا بھی واضح ثبوت ہے۔ ان کے مطابق جدید سائنس کے باوجود دنیا کے کئی جنگلات ایسے ہیں جہاں اب بھی بے شمار انواع دریافت ہونے کی منتظر ہیں، اور یہ تحقیق اس بات کی یاد دہانی ہے کہ قدرتی ماحول میں ابھی بہت کچھ جاننا باقی ہے۔
تاہم اس خوش آئند خبر کے ساتھ ایک تشویشناک پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ تحقیق کے مطابق جس علاقے میں یہ نئی نسل دریافت ہوئی ہے، وہ غیر قانونی جنگلاتی کٹائی، معدنیات کی کان کنی، سڑکوں کی تعمیر اور جنگلی حیات کے غیر قانونی شکار جیسے سنگین خطرات سے دوچار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان جنگلات کا تحفظ نہ کیا گیا تو ممکن ہے یہ نئی دریافت شدہ نسل مکمل طور پر سمجھنے سے پہلے ہی معدومی کے خطرے سے دوچار ہو جائے۔
تحقیقی رپورٹ میں عالمی اداروں اور متعلقہ حکومتوں پر زور دیا گیا ہے کہ اس نئی نسل کے قدرتی مسکن کو محفوظ بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ ماہرین نے سفارش کی ہے کہ اس نوع کی آبادی، طرزِ زندگی، افزائش اور رہائش گاہ پر مزید تحقیق کے ساتھ ساتھ اسے عالمی سطح پر خطرے سے دوچار انواع کی فہرست میں شامل کرنے پر بھی غور کیا جائے تاکہ اس کے تحفظ کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کی جا سکے۔
حیاتیاتی تنوع کے ماہرین کے مطابق جمہوریہ کانگو کے بارشی جنگلات نہ صرف افریقہ بلکہ پوری دنیا کے قدرتی ماحولیاتی نظام کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ ان جنگلات میں موجود نایاب جانوروں اور پودوں کا تحفظ مستقبل کی سائنسی تحقیق، ماحولیاتی توازن اور قدرتی ورثے کی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔ نئی نسل کی یہ دریافت اس حقیقت کی ایک اور مثال ہے کہ دنیا کے گھنے جنگلات اب بھی ایسے بے شمار راز اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں جنہیں دریافت کرنا ابھی باقی ہے۔
صحافی و تجزیہ کار
اس کالم میں ظاہر کیے گئے خیالات کالم نگار کے ذاتی ہیں، ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
